جمعرات‬‮ ، 04 جون‬‮ 2026 

ترک صدر کا دبنگ اعلان،یورپ اورامریکہ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی

datetime 8  جنوری‬‮  2017 |

انقرہ(آئی این پی )ترک صدر رجب طیب اردگان نے ایک بار پھر واضح کیا کہ اگر قومی اسمبلی نے سزائے موت پر عمل درآمد کو قبول کر لیا تو میں بھی اس کی منظوری دے دوں گا، کیونکہ کسی قاتل کو معاف کرنے کا حق حکومت کے پاس نہیں ہوتا، ہم معصوم انسانوں کا قتل کرنے والے ان بے حس انسانوں کی دیکھ بھال کرنے کے حق کے مالک نہیں ہیں، آنکھوں میں خون آتر آنے والے قاتلوں کے ریورڑ باہمی تعاون کے ساتھ ترکی میں حملے کر رہے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ترک صدر کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی نے اگر سزائے موت پر عمل درآمد کو قبول کر لیا تو میں اس کی فورا منظوری دے دوں گا۔ضلع ازمیر کی عدالت کے سامنے گزشتہ روز ہونے والے دہشت گرد حملے سے متعلق صدر نے بتایا کہ اس دوران قبضہ کردہ اسلحہ، بم اور سازو سامان دہشت گردوں کے وہاں پر وسیع پیمانے پر خون خرابہ کرنے کے لیے آنے کا ثبوت پیش کرتا ہے۔پولیس اہلکاروں کے بہادرانہ اقدام کی بدولت دہشت گردوں کو چیک پوسٹ پر روکے جانے کی یاد دہانی کرانے والے ایردوان نے وضاحت کی کہ اس طریقے سے وسیع پیمانے کی تباہی کا سد باب کیا گیا ہے۔صدرِ ترکی نے مزید کہا کہ اب اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ بعض عناصر ان تنظیموں کو اسلحہ اندوز کرتے ہوئے ترکی میں حملے کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی خبر دار کیا کہ آج اپنے علاقائی مفادات کی خاطر ہم پر دہشت گرد تنظیموں کو مسلط کرنے والوں کو کل اسی آگ میں خود جلنے کے وقت اپنی غلطیوں کا اندازہ ہو گا تا ہم اس وقت پانی سر سے گزر چکا ہو گا۔واضح رہے کہ ترک صدر کی جانب سے سزائے موت کے قانون کی بحالی کے پیش نظر یورپی یونین نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے اور ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت سے متعلق اقدامات بھی ترک صدر کے ایسے ہی سخت اقدامات کی وجہ سے روک دیئے گئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…