اتوار‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2026 

ترک صدر کا دبنگ اعلان،یورپ اورامریکہ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی

datetime 8  جنوری‬‮  2017 |

انقرہ(آئی این پی )ترک صدر رجب طیب اردگان نے ایک بار پھر واضح کیا کہ اگر قومی اسمبلی نے سزائے موت پر عمل درآمد کو قبول کر لیا تو میں بھی اس کی منظوری دے دوں گا، کیونکہ کسی قاتل کو معاف کرنے کا حق حکومت کے پاس نہیں ہوتا، ہم معصوم انسانوں کا قتل کرنے والے ان بے حس انسانوں کی دیکھ بھال کرنے کے حق کے مالک نہیں ہیں، آنکھوں میں خون آتر آنے والے قاتلوں کے ریورڑ باہمی تعاون کے ساتھ ترکی میں حملے کر رہے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ترک صدر کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی نے اگر سزائے موت پر عمل درآمد کو قبول کر لیا تو میں اس کی فورا منظوری دے دوں گا۔ضلع ازمیر کی عدالت کے سامنے گزشتہ روز ہونے والے دہشت گرد حملے سے متعلق صدر نے بتایا کہ اس دوران قبضہ کردہ اسلحہ، بم اور سازو سامان دہشت گردوں کے وہاں پر وسیع پیمانے پر خون خرابہ کرنے کے لیے آنے کا ثبوت پیش کرتا ہے۔پولیس اہلکاروں کے بہادرانہ اقدام کی بدولت دہشت گردوں کو چیک پوسٹ پر روکے جانے کی یاد دہانی کرانے والے ایردوان نے وضاحت کی کہ اس طریقے سے وسیع پیمانے کی تباہی کا سد باب کیا گیا ہے۔صدرِ ترکی نے مزید کہا کہ اب اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ بعض عناصر ان تنظیموں کو اسلحہ اندوز کرتے ہوئے ترکی میں حملے کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی خبر دار کیا کہ آج اپنے علاقائی مفادات کی خاطر ہم پر دہشت گرد تنظیموں کو مسلط کرنے والوں کو کل اسی آگ میں خود جلنے کے وقت اپنی غلطیوں کا اندازہ ہو گا تا ہم اس وقت پانی سر سے گزر چکا ہو گا۔واضح رہے کہ ترک صدر کی جانب سے سزائے موت کے قانون کی بحالی کے پیش نظر یورپی یونین نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے اور ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت سے متعلق اقدامات بھی ترک صدر کے ایسے ہی سخت اقدامات کی وجہ سے روک دیئے گئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…