جمعرات‬‮ ، 04 جون‬‮ 2026 

اہم یورپی ملک میں حجاب پر مکمل پابندی،بڑا اعلان کردیاگیا

datetime 7  جنوری‬‮  2017 |

ویانا(آئی این پی) آسٹریا کی وزیر خارجہ سپاسٹین کورٹز نے کہا ہے کہ حکومت ریاست کے تمام سرکاری اداروں میں کام کرنے والی خواتین کے لیے حجاب پر پابندی کا قانون نافذ کرنے کی تیاری کررہی ہے۔ پابندی کے قانون کا اطلاق اسکول کی معلمات پر بھی ہوگا۔غیر ملکی میڈیاکے مطابق آسٹرین وزیرخارجہ اسپٹین کورٹز کا تعلق ملک کی قدامت پسند عیسائی سیاسی جماعت پیپلز پارٹی سے ہے اور وہ ایک فلسطینی نژاد خاتون وزیر مملکت منی دزدار کے ساتھ مل کر ملک میں حجاب پر پابندی کے لیے قانون سازی کررہے ہیں۔ منی دزدار سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی رکن اور حکمراں اتحاد کا حصہ ہیں۔ ایک مسلمان اور فلسطینی نژاد خاتون کا حجاب پر پابندی کی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا افسوس ناک قرار دیا جا رہا ہے۔حجاب پر پابندی سے متعلق قانون کی منظوری کی شکل میں آسٹریا، فرانس اور جرمنی سے بھی زیادہ اس نوعیت کے قوانین پر چلنے والا ملک بن جائے گا۔

آسٹرین وزیرخارجہ کا کہنا ہے کہ وہ حجاب پر پابندی کے قانون کو اسکولوں پر بھی لاگو کریں گے تاکہ اسکولوں کی مسلمان طالبات بھی اس قانون کی پابندی کریں۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریا مذہب کے معاملے میں ہم آہنگی کے اصول پر قائم ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ ایک سیکولر ملک بھی ہے۔آسٹرین وزیرخارجہ نے جہاں ایک طرف مسلمان خواتین کے حجاب پر پابندی کے قانون کے نفاذ کی مہم شروع کی ہے، وہیں دوسری طرف کیتھولک عیسائی عورتوں کو صلیب کی علامت گلے میں ڈالنے کی اجازت دی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اسکول میں کلاسوں کے دوران بھی صلیب کی علامت نمایاں کی جاسکتی ہے۔ بہ قول ان کے صلیب کی علامت گلے میں ڈالنا ملک کی قومی تہذیب وتاریخ کے اظہار کا بہترین ذریعہ ہے۔ادھر آسٹریا میں مسلمانوں کی سب سے بڑی نمائندہ تنظیم اسلامک سوسائٹی کے ترجمان نے حجاب پر پابندی کے قانون پر اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ مذہب کی بنیاد پر الگ الگ قوانین کا نفاذ آسٹریا کے دستور کے خلاف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آسٹریا میں کام کی جگہوں پر مذہبی بنیادوں پر الگ الگ قوانین کا اطلاق شہریوں میں امتیاز برتنے کی کوشش ہے اور ایسا کرنا ریاستی دستور کی خلاف ورزی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…