اتوار‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2026 

اہم یورپی ملک میں حجاب پر مکمل پابندی،بڑا اعلان کردیاگیا

datetime 7  جنوری‬‮  2017 |

ویانا(آئی این پی) آسٹریا کی وزیر خارجہ سپاسٹین کورٹز نے کہا ہے کہ حکومت ریاست کے تمام سرکاری اداروں میں کام کرنے والی خواتین کے لیے حجاب پر پابندی کا قانون نافذ کرنے کی تیاری کررہی ہے۔ پابندی کے قانون کا اطلاق اسکول کی معلمات پر بھی ہوگا۔غیر ملکی میڈیاکے مطابق آسٹرین وزیرخارجہ اسپٹین کورٹز کا تعلق ملک کی قدامت پسند عیسائی سیاسی جماعت پیپلز پارٹی سے ہے اور وہ ایک فلسطینی نژاد خاتون وزیر مملکت منی دزدار کے ساتھ مل کر ملک میں حجاب پر پابندی کے لیے قانون سازی کررہے ہیں۔ منی دزدار سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی رکن اور حکمراں اتحاد کا حصہ ہیں۔ ایک مسلمان اور فلسطینی نژاد خاتون کا حجاب پر پابندی کی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا افسوس ناک قرار دیا جا رہا ہے۔حجاب پر پابندی سے متعلق قانون کی منظوری کی شکل میں آسٹریا، فرانس اور جرمنی سے بھی زیادہ اس نوعیت کے قوانین پر چلنے والا ملک بن جائے گا۔

آسٹرین وزیرخارجہ کا کہنا ہے کہ وہ حجاب پر پابندی کے قانون کو اسکولوں پر بھی لاگو کریں گے تاکہ اسکولوں کی مسلمان طالبات بھی اس قانون کی پابندی کریں۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریا مذہب کے معاملے میں ہم آہنگی کے اصول پر قائم ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ ایک سیکولر ملک بھی ہے۔آسٹرین وزیرخارجہ نے جہاں ایک طرف مسلمان خواتین کے حجاب پر پابندی کے قانون کے نفاذ کی مہم شروع کی ہے، وہیں دوسری طرف کیتھولک عیسائی عورتوں کو صلیب کی علامت گلے میں ڈالنے کی اجازت دی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اسکول میں کلاسوں کے دوران بھی صلیب کی علامت نمایاں کی جاسکتی ہے۔ بہ قول ان کے صلیب کی علامت گلے میں ڈالنا ملک کی قومی تہذیب وتاریخ کے اظہار کا بہترین ذریعہ ہے۔ادھر آسٹریا میں مسلمانوں کی سب سے بڑی نمائندہ تنظیم اسلامک سوسائٹی کے ترجمان نے حجاب پر پابندی کے قانون پر اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ مذہب کی بنیاد پر الگ الگ قوانین کا نفاذ آسٹریا کے دستور کے خلاف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آسٹریا میں کام کی جگہوں پر مذہبی بنیادوں پر الگ الگ قوانین کا اطلاق شہریوں میں امتیاز برتنے کی کوشش ہے اور ایسا کرنا ریاستی دستور کی خلاف ورزی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…