پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

’’بھارت کی درخواست ردی کے ڈھیر میں ‘‘

datetime 7  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

نئی دہلی (آئی این پی)برطانوی وزیراعظم ٹریزامے نے بھارت کے ویزے میں نرمی دینے کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ میں ویزے کا اچھا نظام پہلے سے ہی موجود ہے،بھارت کیلئے ویزا کوٹا بڑھانے کی ضرورت نہیں۔برطانوی وزیراعظم انڈیا کے دورے پر نئی دہلی میں موجود ہیں۔ ان کے دورے کا مقصد تجارتی معاہدے کرنا ہے۔یورپی یونین سے نکلنے کے فیصلے کے بعد یہ ان کا کسی بھی ملک کا پہلا تجارتی دورہ ہے۔ٹریزا مے پہلے ہی یہ کہہ چکی ہیں کہ برطانیہ یورپی یونین سے باہر موجود ممالک میں سے ‘روشن اور بہترین’ کو متوجہ کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔اپنے بیان میں انھوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے موصول ہونے والی دس میں سے نو ویزا درخواستوں کو پہلے سے ہی منظور کیا جاتا رہا ہے۔تاہم مسز ٹریزا مے نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ برطانیہ دولت مند انڈین تاجروں کی برطانیہ آمد کو آسان بنائے گا۔اب ہزاروں انڈین ورک ویزا کے ذریعے رجسٹرڈ ٹریولرز سکیم کا حصہ بن سکیں گے جس کا مطلب یہ ہے کہ انھیں برطانیہ کی سرحدوں کے اندر تیزی سے سفر کرنے کی سہولت حاصل ہوگی۔اس سے قبل کوبرا بیئر کے بانی لارڈ بلیموریا نے کہا تھا کہ برطانیہ میں رہائش سے متعلق پابندیوں کے باعث گذشتہ پانچ سال سے برطانیہ کی یونیورسٹیوں میں انڈین طالبعلموں کی تعداد آدھی رہ گئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کی نقل وحرکت کا کسی تجارتی مذاکرات میں کلیدی حصہ ہوگا۔برطانیہ کے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق جون سنہ 2010 سے گذشتہ برس تک انڈین شہریوں کو دیے جانے والے ویزوں میں 68 ہزار 238 سے 11 ہزار 864 تک کمی آئی۔کرن بلیموریا کا کہنا ہے کہ برطانیہ آنے والے طلبہ کو برطانیہ میں مجموعی طور پر آنے والے لوگوں کے اعداد و شمار سے علیحدہ کرنا اس کا حل ہے۔ اور ٹریزا مے نے عہد کیا ہے کہ تارکین وطن کی برطانیہ آمد کو ایک لاکھ سالانہ تک محدود کر دیا جائے گا جو کہ جون 2015 تک تین لاکھ 36 ہزار تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…