اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

فیس بک پر بھارت مخالف پوسٹ شیئرکرنا کشمیری طالب علم کو بھاری پڑ گیا

datetime 28  ستمبر‬‮  2016 |

راجستھان (این این آئی)بھارتی ریاست راجستھا ن کے ضلع ادے پورمیں ایک پرائیویٹ کالج ٹیکنو انڈیا این جی آر انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں زیر تعلیم کشمیری طالب علم کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اوڑی حملے کے بعد بھارت مخالف پوسٹ شیئر کرنے پر کالج سے معطل اور اسکے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے ۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سرینگر سے تعلق رکھنے والے کشمیری طالب علم مدثر رشید جو سول انجینئرنگ کے تھرڈ ائیر کے طالب علم ہیں کو اوڑی حملے کے بعد فیس بک پر کشمیری مجاہد کمانڈر برہان وانی کے بارے میں ایک پوسٹ لکھنے اور شیئر کرنے پر کالج سے معطل کیاگیا اور بعدازاں پولیس نے اسے بغاوت کے مقدمے کے تحت گرفتار بھی کر لیا ہے ۔ہرن مگری پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او چھگن پروہت کے مطابق کالج انتظامیہ کی کایت پر مدثر کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کیاگیا ہے ۔ گوردن پولیس اسٹیشن کے سب انسپکٹر نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ہندو انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کے اسٹوڈنٹس ونگ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد(اے بی وی پی) کے کارکنوں اورہندو طلباء کی تنظیموں نے مدثر کے اس اقدام کے خلاف کالج طلبہ کے ہمراہ احتجاج کیلئے کالج میں مظاہرہ کیا اور توڑ پھوڑ کی۔ کالج کے ڈائریکٹر آر ایس ویاس نے کہاہے کہ مدثر کو ابتدائی طور پر سات دنوں کیلئے کالج سے معطل کیاگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدثر پر الزام ہے کہ اس نے اوڑی حملے کے بعد مبینہ طور پربھارت مخالف الفاظ سماجی رابط ویب سائٹ فیس بک پر لکھے اور بعد میں اس کو دوسروں کے ساتھ شئیر بھی کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقع تبھی سامنے آیا جب چند طالب علموں نے یہ معاملہ کالج انتظامیہ کے سامنے لایا جس کے بعد مد ثر کو پولیس کے حوالے کیا گیا۔ ویاس نے کہا کہ کالج میں 15کشمیر طالب علم زیر تعلیم ہے اور مد ثر ان میں سے ایک ہے۔دریں اثنا بھارتی ریاست ہریانہ کے گنگاانسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں زیر تعلیم دو کشمیری طلباء کو ہندو طلبا اور سیکورٹی گارڈز نے بلاوجہ بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا ۔ ایک کشمیری طالب علم نے سرینگر سے شائع ہونیوالے ایک اخبار کو ٹیلی فون پر بتایا کہ کالج کے وارڈن نے بھی بعد ازاں کشمیری طلباء کا موقف سنے بغیر انہیں مارا پیٹا۔ مارپیٹ کے سبب ایک طالب علم کی آنکھ اور ہونٹ شدید زخمی ہوئے ۔ یاد رہے کہ بھارتی تعلیمی اداروں میں کشمیری طلباء کو مارپیٹ کانشانہ بنانا معمول بن چکا ہے جبکہ آج تک کسی بھی مجرم ہندو طالب علم کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…