ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

50فیصدبرطانوی ملازمت پیشہ خواتین کو جنسی ہراسیت کا سامنا

datetime 10  اگست‬‮  2016 |

لندن(این این آئی)برطانیہ میں ٹریڈ یونین کانگریس (ٹی یو سی) کی نئی تحقیق میں کہاگیا ہے کہ دفاتر میں کام کرنے والی والی نصف سے زیادہ خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے اور ان میں سے متعدد نے اس کی شکایت نہ کرنے کو تسلیم کیا ہے۔میڈیارپورٹس میں بتایا گیا کہ ڈیڑھ ہزار خواتین پر کیے جانے والے سروے کے مطابق ایک تہائی خواتین کو ناپسندیدہ لطائف کا نشانہ بنایا گیا جب کہ ایک چوتھائی کو ان کی مرضی کے بغیر چھوا گیا۔ٹی یو سی کی سربراہ فرانسس او گریڈی کا کہنا تھا کہ ایسی متاثرہ خواتین کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا اور وہ خوفزدہ بھی ہوئیں۔اوگریڈی نے اسے ’سکینڈل‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ چند خواتین نے محسوس کیا کہ ان کے مالکان اس مسئلے سے پوری طرح نمٹ رہے تھے۔ٹی یو سی کا کہنا تھا کہ دفتروں میں کام کرنے والی خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے کئی طریقے ہیں جن میں اپنے ساتھی کی سیکس لائف کے بارے میں غیر مناسب تبصرے اور مذاق کرنا، انھیں ان کی مرضی کے بغیر چھونا، گلے لگانا یا بوسہ لینا یا پھر سیکس کے لیے مطالبہ کرنا شامل ہیں۔سروے کے مطابق ان دس میں سے نو واقعات کے مرتکب مرد ہوتے ہیں جب کہ ہر پانچ میں سے ایک خاتون (17 فیصد) کا کہنا ہے کہ ان واقعات میں ان کے لائن مینیجر ملوث ہوتے ہیں یا پھر وہ جو ان پر براہِ راست اختیار رکھتے ہیں۔28 فیصد خواتین کا کہناتھا کہ انھوں نے اس خوف سے اس بات کی شکایت درج نہیں کروائی کیونکہ ایسے کرنے سے دفتر میں ان کے کام کرنے پر اثر پڑے گا جب کہ 15 فیصد خواتین کے مطابق ان کے کیرئیر پر اثر پڑ سکتا ہے۔تقربیاً 24 فیصد خواتین نے ان واقعات کی شکایت نہیں کی کیونکہ ان کے خیال میں ایسے کرنے سے ان پر اعتبار نہیں کیا جائے گا یا پھر انھیں سنجیدہ نہیں لیا جائے گا جب کہ 20 فیصد خواتین کا کہنا تھا کہ ایسا کرنے سے انھیں شرمندگی ہو گی۔سروے کے مطابق 18 سے 24 سال کی تقریباً دو تہائی (63 فیصد) خواتین کا کہنا تھا کہ انھیں دفاتر میں جنسی طور پر ہراساں کیا گیا۔ٹی یو سی کا کہنا تھاکہ نوجوان خواتین کے ساتھ عام طور پر سرسری معاہدے کیے جاتے ہیں جیسا کہ عارضی ایجنسی یا صفر گھنٹے کے معاہدے۔ ایسی خواتین کو دفاتر میں زیادہ تر چھوٹے کام دیے جاتے ہیں اور یہی جنسی طور پر ہراساں کرنے کے عوامل ہو سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…