منگل‬‮ ، 19 مئی‬‮‬‮ 2026 

ترک صدر کا بیان، مغرب بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ‎

datetime 2  اگست‬‮  2016 |

ستنبول( آن لائن ) ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے مغربی ممالک پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغرب دہشتگردی اور اقتدار پر قبضے کی کوششیں کرنےا والوں کی حمایت کرتا ہے۔15 جولائی کو ترکی میں ہونے والی فوجی بغاوت کی ناکام کوشش کے بعد سے انقرہ کا مغرب کے حوالے سے یہ سخت ترین بیان ہے۔ غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق صدارتی محل سے اپنے ٹی وی خطاب میں صدر اردگان نے کہا کہ بدقسمتی سے جنہیں ہم دوست سمجھتے ہیں وہ دہشتگردوں اور بغاوت کی سازش کرنے والوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر مسلح افواج کی تنظیم نو کے حوالے سے اقدامات نہ کیے گئے تو فتح اللہ گولن سے وابستہ تنظیم فوج پر اپنا قبضہ مکمل کرلے گی۔اردگان نے کہا کہ اقتدار پر قبضے کی کوشش کرنے والوں کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔انہوں نے استفسار کیا کہ امریکا ترکی کاکیسا اسٹریٹجک پارٹنر ہے جب وہ درخواست کے باوجود فتح اللہ گولن کو ہمارے حوالے نہیں کرسکتا۔اردگان نے کہا کہ یورپی یونین نے مہاجرین کے حوالے سے ہونے والے معاہدے میں کیے جانے والے وعدے پورے نہیں کیے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ بغاوت کی کوشش کی پیشگی اطلاع نہ ملنے کی وجہ یہ تھی کہ خفیہ ایجنسی پر گولن کے حامیوں کا قبضہ تھا، ہم اپنی انٹیلی جنس کی بھی تنظیم نو کرینگے۔ترک صدر نے کہا کہ جرمنی میں عدالت نے بہت ہی زیادہ پھرتی دکھائی اور مجھے وہاں موجود اپنے حامیوں سے وڈیو لنک کے ذریعے خطاب سے روک دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ترکی نے جرمنی کو 4 ہزار سے زائد مطلوب شدت پسندوں کی فہرست بھی دی تھی لیکن اس پر اب تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا لیکن ان کی آئینی عدالت نے میرے خطاب پر پابندی کا فیصلہ دو گھنٹے میں جاری کردیا۔انہوں نے استفسار کیا کہ مغرب جمہوریت کی طرف ہے یا دہشتگردوں کی طرفداری کرتا ہے کیوں کہ ماضی میں کالعدم کردستان ورکرز پارٹی کے رہنماؤں کو جرمنی میں خطاب کی اجازت دی جاتی رہی ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ بغاوت کی کوشش کا اسکرپٹ ترکی سے باہر لکھا گیا جس پر ترکی میں موجود عناصر نے عمل کیا۔واضح رہے کہ ترکی فوجی بغاوت کی کوشش کے پیچھے امریکا میں خود ساختہ جلا وطنی کاٹنے والے مبلغ فتح اللہ گولن کو ٹھہراتا ہے اور بغاوت کی ناکام کوشش کے بعد سے اب تک مختلف اداروں میں کریک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…