ریاض(آن لائن) سعودی عرب کی سرکاری فضائی کمپنی سعودی ایئرلائن نے دارلحکومت ریاض سے اسرائیلی دارلحکومت تل ابیب تک براہ راست فضائی سروس شروع کرنے کااعلان کردیاجس کا اطلاق جمعہ سے ہوچکا ہے ، جس سے دونوں ممالک کے درمیان خفیہ اتحاد کے خطرات زور پکڑنے لگے کیونکہ عمومی طورپر دونوں ممالک کو دشمن تصور کیاجاتاہے۔ غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق سعودہ وزارت خارجہ کے ترجمان عبداللہ متہیب نے اے ایف پی کو بتایاکہ کابینہ کے کئی اجلاس میں دونوں ممالک کے درمیان براہ راست فضائی سروس شروع کرنے کا جائزہ لیاگیا اور اس کا نتیجہ تسلی بخش رہا، یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہے کہ ہمارے دوبوئنگ 787طیاروں نے بن گریوں انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر گزشتہ روز لینڈنگ کی۔ تل ابیب ، حیفہ اور یروشلم سعودی ایئرلائن کی ممکنہ منزل ہوسکتی ہے جہاں کئی عرب شہری مقیم ہیں۔بتایاگیاہے کہ سعودی فرمانروشاہ سلمان بن عبدالعزیز کی سعودی وزیرٹرانسپورٹ کو اسرائیلی ہم منصب سے بات چیت کرنے اور دونوں ممالک کے دارلخلافہ کے درمیان براہ راست فضائی سروس شروع کرنے کی واضح ہدایات کے نتیجے میں معاہدہ طے پایاہے۔ ممکنہ طورپر اس معاہدے کو اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہوکی بھی حمایت حاصل ہے تاکہ ناقدملک کی مدد سے اسرائیل کو خطے میں تنہائی سے نکالاجاسکے۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ تاحال دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ کچھ لوگوں کایہ بھی خیال ہے کہ خطے میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ کو مدنظر رکھتے ہوئے دونوں ممالک وفاداریاں تبدیل کرنے پر مجبور ہوئے۔یادرہے کہ اس سے قبل عرب شہری یورپ یاترکی پہنچتے ہیں جہاں سے ہوکر وہ تل ابیب جاتے ہیں ، خطے میں امن کی دم توڑتی امیدوں کے باوجود فضائی سروس شروع ہونے سے تل ابیب سٹاک ایکس چینج میں عرب تاجروں کی سرمایہ کاری کا امکان بھی ظاہر کیاجارہاہے۔۔