اتوار‬‮ ، 29 مارچ‬‮ 2026 

پاکستان امریکہ کا دوست ہے یا دشمن ٗ امریکا کے سینئر قانون سازوں نے حیرت انگیز قدم اُٹھالیا

datetime 11  جولائی  2016 |

واشنگٹن(این این آئی)امریکا کے سینئر قانون سازوں اور ان کے گواہوں نے کیپٹل ہل میں جمع ہوکر پاکستان سے ایک مرتبہ پھر سوال کیا کہ وہ امریکا کا دوست ہے یا دشمن۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی ایوان نمائندگان کی دہشت گردی ٗجوہری عدم پھیلاؤ، تجارت اور ایشاء پیسفک سے متعلق ذیلی کمیٹیوں نے مشترکہ طور پر اس سماعت میں شرکت کی جس کا مقصد اس بات کا تعین کرنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ کس طرح ڈیل کرنا ہے جو امریکا کا ایک پرانا اتحادی ہے تاہم اب کانگریس کے بہت سے اراکین کو اس پر اعتماد نہیں رہا۔سماعت میں ایک ذیلی کمیٹی کے چیئرمین ری پبلکنز کے ٹیڈ پو بھی شریک تھے جنھوں نے پاکستان کے حوالے سے اپنی ناگواری چھپانے کی کبھی کوشش نہیں کی۔ٹیڈ پو نے اس موقع پر کہا کہ اس سماعت کا مقصد اراکین کو اس حوالے سے موقع فراہم کرنا ہے کہ وہ پاکستان کے دہشت گرد گروپوں سے دیرینہ تعلقات کے بارے میں مزید جانیں اورانھیں امریکا اور اسلام آباد کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننے کا موقع ملے۔افغانستان اور اقوام متحدہ میں امریکا کے سابق سفیر زالمے خالد زاد اْن 3 گواہوں میں شامل تھے جن سے کہا گیا کہ وہ قانون سازوں کو پاکستان اوراس کی پالیسیوں کے بارے میں وضاحت سے بتائیں۔دیگر 2 گواہان میں لانگ وار جرنل کے سینئر ایڈیٹر بل روگیو اور امیریکن یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ٹریشیا بیکن شامل تھے۔ایشیا اینڈ پیسفک کمیٹی کے سربراہ کانگریس مین میٹ سالمن کا کہنا تھا کہ نائن الیون کے بعد سے امریکا پاکستان پر اربوں ڈالرز خرچ کر چکا ہے اور 15 سال بعد بھی پاکستان کی فوج اورانٹیلی جنس ایجنسیاں دہشت گرد گروپوں سے رابطے میں ہیں اور خطے میں استحکام کیلئے نہایت معمولی کوشش کی گئی۔انھوں نے کہا کہ ہمیں امریکی مقاصد، امیدوں اور خطے کو دی جانے والی امداد کا قریبی جائزہ لینا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ اس سماعت میں ہم پاکستان سے متعلق اوباما انتظامیہ کی ناکام پالیسی پر تبادلہ خیال کے ساتھ ساتھ مستقبل کیلئے بہترین طریقے پر بحث کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کے لیے واحد آپشن


بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…