ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

سوائے پاکستان کے باقی تمام پڑوسی ملکوں سے تعلقات کا ثمر ،افغان صدر اشرف غنی نے ’’مثال سچ ثابت کردی‘‘

datetime 9  جولائی  2016 |

وارسا(آئی این پی )افغان صدر اشرف غنی نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان اچھے ، برے دہشت گردوں میں خطرناک امتیاز کی پالیسی برقرار جاری رکھے ہوئے ہے ، سوائے پاکستان کے باقی تمام پڑوسی ملکوں سے تعلقات کا ثمر ملا ہے ، ہم معاملات طے کرنے کے قواعد پر پڑوسیوں سے متفق نہیں ہو سکے، نائن الیون کے بعد کی صورتحال سے نمٹنے کے لئے امریکہ اور نیٹو کی مدد وتعاون کے شکر گذار ہیں ۔ وہ ہفتہ کو یہاں نیٹو سربراہ اجلاس کے دوسرے روز خطاب کر رہے تھے ۔ افغان صدر نے کہا کہ افغانستان کی جانب سے پاکستان کے ساتھ اٹھائے گئے امن اقدامات کامیاب نہیں کیونکہ پاکستان اچھے اور برے طالبان میں فرق کی پالیسی برقرار رکھے ہوئے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سوائے پاکستان کے باقی تمام پڑوسی ملکوں سے تعلقات کا ثمر ملا ہے ، ہم معاملات طے کرنے کے قواعد پر پڑوسیوں سے متفق نہیں ہو سکے۔اشرف غنی نے کہا کہ چار ملکی امن عمل کے تحت واضح وعدوں کے باوجود پاکستان کی جانب سے اچھے اور برے دہشت گردوں کے درمیان خطرناک فرق کی مشق جاری ہے ۔انہوں نے کہا کہ پڑوسی ریاستوں کے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ قواعد پر متفق نہ ہو سکناہے اور اس وجہ سے ہم علاقائی و عالمی حمایت حاصل نہیں کر پا رہے جو ہمیں مجموعی سلامتی اور ہم آہنگی سے دور رکھے ہوئے ہے ۔ افغان صدر نے کہا کہ عالمی رہنماؤں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ افغانستان کثیرالطرفہ تنازعات کا شکار ہے اور وہ وسطی ایشیا ، روس اور پاکستان سمیت دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے داعش ، القاعدہ اور دیگر گروپوں سے لڑ رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان میں پاکستانی اور افغان طالبان دھڑے میں شامل ہیں ۔ اعلان مکہ 2015کا تذکرہ کرتے ہوئے اشرف غنی کی دعویٰ کیا کہ دہشت گردی کے حوالے سے عرب مسلم برادری کے ساتھ افغانستان کے مذاکرات نتیجہ خیز رہے ۔انہوں نے کہا کہ مسجد نبوی کے قریب حالیہ دہشت گرد حملوں سے مسلم برادری کے اندر غم وغصے کی لہر دوڑی ہے اور اس سے ہماری تہذیب کو ہائی جیک کرنے والی چھوٹی سی اقلیت کے خلاف اتفاق رائے پیدا ہوا ہے ۔ اشرف غنی نے افغانستان کے شانہ بشانہ کھڑے رہنے پر نیٹو ممالک کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ نیٹو نے نائن الیون کے بعد افغانستان میں پیدا ہونے والی صورتحال سے اچھے طریقے سے نمٹا اور انہوں نے افغانستان کو ہر قسم کی مدد دی ، ہماری تین لاکھ باون ہزار ہزار اور دفاعی فورسز کو تربیت دی ۔انہوں نے رزالوٹ، سپوٹ مشن پر امریکی صدر اوبامہ کا بھی شکریہ ادا کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…