ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

جرمنی کے ریپ قانون میں تبدیلی’نہ‘ کا مطلب ’نہ‘ ہوگا،ایوان نے منظوری دیدی

datetime 9  جولائی  2016 |

برلن(مانیٹرنگ ڈیسک)جرمنی کی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں بندسٹیگ نے ریپ سے متعلق ایک قانون کو منظور کرلیا ہے جو ملک میں ریپ کی تعریف کو بدل دے گا۔میڈیارپورٹس کے مطابق جرمنی میں رائج قانون کرمنل کوڈ کی سیکشن 177 کے تحت اگر کوئی خاتون یہ الزام عائد کرے کہ اسے ریپ کیاگیا ہے تو اسے ثابت کرنا ہوگا کہ اس نے جنسی زیادتی کے خلاف مزاحمت کی ہے۔ موجودہ قانون کی نظر میں صرف ’زبانی انکار‘ پر ملزم کو سزا نہیں سنائی جا سکتی۔قانون میں اس سقم کی وجہ جنسی زیادتی کے اکثر ملزمان بچ جاتے ہیں۔ سنہ 2014 میں ہونے والی ایک ریسرچ کے مطابق قانون خاتون کے’زبانی انکار‘ کو تسلیم نہیں کرتا۔جرمن قانون میں اب یہ تبدیلی کی گئی ہے ریپ کے الزام کی صحت کا اندازہ لگانے کے لیے حکام اب ’مزاحمت‘ اور ’زبانی انکار‘ دونوں کو خاطر میں لائیں گے جس کا مطلب ہے کہ قانون اب ’زبانی انکار‘ کو گواہی کے طور پر تسلیم کرے گا۔حقوق کی مہم چلانے والوں کا کہنا تھا کہ جرمنی ریپ کے قوانین کے حوالے سے ہمیشہ پس ماندہ رہا ہے۔ جرمنی میں ’ازدواجی ریپ‘ کا قانون سنہ 1997 میں متعارف کرایا گیا تھا۔گذشتہ برس کولون میں سال نو کی تقریبات میں سینکڑوں عورتوں نے شکایت کی تھی کہ انھیں جنسی طور پر ہراساں کیا گیا جس نے جرمن معاشرے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ لوگوں کو یہ یہ جان کر بھی غصہ آیا کہ ریپ کے موجودہ قانون میں ’مزاحمت‘ کی شرط ہونے کی وجہ سے پولیس اکثر ملزمان کو سزا نہیں دلوا پائی اور صرف چند ملزمان ہی قانون کی گرفت میں آ سکے۔ناقدین کا کہنا ہے کہ قانون کسی ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے جس کے تحت اگر متاثرہ فرد ’زبانی انکار‘ کرنے کی پوزیشن میں نہ ہو تو ایسے صورتحال سے نمٹنے کیلئے قانون اب بھی سقم موجود ہے۔جرمنی میں جنسی طور پر ہراساں کرنے اور گروہ کے حملوں کے خلاف بھی قوانین کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…