منگل‬‮ ، 19 مئی‬‮‬‮ 2026 

مسجد نبوی میں روزہ داروں کی پیشانی چْومنے والا نوجوان پاپولر ہوگیا

datetime 1  جولائی  2016 |

جدہ (مانیٹرنگ ڈیسک)مسجد حرام اور مسجد نبوی سمیت حجاز مقدس کی تمام بڑی مساجد میں ماہ صیام کے دوران روزہ داروں کے لیے اجتماعی افطاری کا انتہائی خلوص اور مروت کے ساتھ اہتمام کیا جاتا ہے۔ افطاری کی مساعی جمیلہ میں نوجوان بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے اور روزہ داروں کی خدمت سے سرشار انہیں ہر سہولت مہیا کرتے ہیں۔عرب ٹی وی کے مطابق مسجد نبوی میں ایک ایسے ہی نوجوان کی ویڈیو فوٹیج انٹرنیٹ پر تیزی کے ساتھ مقبول ہو رہی ہے جسے روزہ داروں کی پیشانیوں کو چومتے دکھایا گیا ہے۔ یہ نوجوان کون ہے اور ایسے کیوں کرتا ہے؟ اس سوال کا جواب وہ خود اپنے الفاظ میں بیان کرتا ہے۔
روزرہ داروں کی افطاری میں مدد کرنے اور افطار کے لیے آنے والے روزہ داروں کی پیشانیوں کو چوم کران کی تکریم کرنے والے یہ رضاکار نوجوان محمدابراہیم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں روزہ داروں کی پیشانیوں کو چوم کر دلی اطمینان اور خوشی حاصل کرتا ہوں۔ اس سے میرے دل کو ٹھنڈک ملتی ہے اور قلب سکون اور خوشی محسوس کرتا ہے۔محمد ابراہیم کو مسجد نبوی میں روزہ داروں کی خدمت کی ذمہ داری حرم نبوی کے امام وخطیب الشیخ عبدالمحسن کی جانب سے دی گئی ہے۔ الشیخ عبدالمحسن بھی محمد ابراہیم کے اس منفرد عمل سے بہت متاثر ہیں اور انہوں نے ابراہیم کی جانب سے روزہ داروں کو افطار دستر خوان پر لانے کی ترغیب دینے کے لیے جو طریقہ کار اپنایا ہے وہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔خود محمد ابراہیم سے جب پوچھا گیا کہ روزہ داروں کی پیشانیوں کو بوسہ دینے کا پس منظر کیا ہے تو اس کا کہنا ہے کہ ’صرف دلی خوشی اور اطمینان‘۔
اس کاکہنا ہے کہ مجھے اس چیز سے کوئی غرض نہیں سوشل میڈیا پر میرے بارے میں لوگ کس طرح کے خیالات کا اظہار کررہے ہیں۔ میری توجہ صرف روزہ داروں کو دستر خوان پر لانے، انہیں بٹھانے اور افطاری میں ان کی مدد کرنا ہے۔مسجد نبوی میں روزہ داروں کی افطاری کوئی نہیں بلکہ عشروں پرانی اور خوبصورت روایت ہے۔ مقامی شہری اس روایت کو نہ صرف زندہ رکھے ہوئے ہیں اس میں بڑ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ایک مقامی سرکردہ شخصیت وائل نائل کردی کا کہنا تھا کہ مسجد نبوی اور مدینہ منورہ میں اجتماعی افطار کا اہتمام ہمارے کلچر کا حصہ ہے اور صدیوں سے یہ روایت چلی آ رہی ہے۔ ماہ صیام میں رضاکار نوجوان روزہ داروں اور حج کے ایام میں عازمین حج کی خدمت اور مدد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صرف مقامی شہری ہی نہیں بلکہ مدینہ منورہ میں مقیم دوسرے ملکوں کے شہری اور خاندان بھی افطار کے دوران روزہ داروں کی مدد اور ان کی خدمت کو اپنے لیے اجروثواب کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…