اتوار‬‮ ، 29 مارچ‬‮ 2026 

مسجد نبوی میں روزہ داروں کی پیشانی چْومنے والا نوجوان پاپولر ہوگیا

datetime 1  جولائی  2016 |

جدہ (مانیٹرنگ ڈیسک)مسجد حرام اور مسجد نبوی سمیت حجاز مقدس کی تمام بڑی مساجد میں ماہ صیام کے دوران روزہ داروں کے لیے اجتماعی افطاری کا انتہائی خلوص اور مروت کے ساتھ اہتمام کیا جاتا ہے۔ افطاری کی مساعی جمیلہ میں نوجوان بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے اور روزہ داروں کی خدمت سے سرشار انہیں ہر سہولت مہیا کرتے ہیں۔عرب ٹی وی کے مطابق مسجد نبوی میں ایک ایسے ہی نوجوان کی ویڈیو فوٹیج انٹرنیٹ پر تیزی کے ساتھ مقبول ہو رہی ہے جسے روزہ داروں کی پیشانیوں کو چومتے دکھایا گیا ہے۔ یہ نوجوان کون ہے اور ایسے کیوں کرتا ہے؟ اس سوال کا جواب وہ خود اپنے الفاظ میں بیان کرتا ہے۔
روزرہ داروں کی افطاری میں مدد کرنے اور افطار کے لیے آنے والے روزہ داروں کی پیشانیوں کو چوم کران کی تکریم کرنے والے یہ رضاکار نوجوان محمدابراہیم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں روزہ داروں کی پیشانیوں کو چوم کر دلی اطمینان اور خوشی حاصل کرتا ہوں۔ اس سے میرے دل کو ٹھنڈک ملتی ہے اور قلب سکون اور خوشی محسوس کرتا ہے۔محمد ابراہیم کو مسجد نبوی میں روزہ داروں کی خدمت کی ذمہ داری حرم نبوی کے امام وخطیب الشیخ عبدالمحسن کی جانب سے دی گئی ہے۔ الشیخ عبدالمحسن بھی محمد ابراہیم کے اس منفرد عمل سے بہت متاثر ہیں اور انہوں نے ابراہیم کی جانب سے روزہ داروں کو افطار دستر خوان پر لانے کی ترغیب دینے کے لیے جو طریقہ کار اپنایا ہے وہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔خود محمد ابراہیم سے جب پوچھا گیا کہ روزہ داروں کی پیشانیوں کو بوسہ دینے کا پس منظر کیا ہے تو اس کا کہنا ہے کہ ’صرف دلی خوشی اور اطمینان‘۔
اس کاکہنا ہے کہ مجھے اس چیز سے کوئی غرض نہیں سوشل میڈیا پر میرے بارے میں لوگ کس طرح کے خیالات کا اظہار کررہے ہیں۔ میری توجہ صرف روزہ داروں کو دستر خوان پر لانے، انہیں بٹھانے اور افطاری میں ان کی مدد کرنا ہے۔مسجد نبوی میں روزہ داروں کی افطاری کوئی نہیں بلکہ عشروں پرانی اور خوبصورت روایت ہے۔ مقامی شہری اس روایت کو نہ صرف زندہ رکھے ہوئے ہیں اس میں بڑ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ایک مقامی سرکردہ شخصیت وائل نائل کردی کا کہنا تھا کہ مسجد نبوی اور مدینہ منورہ میں اجتماعی افطار کا اہتمام ہمارے کلچر کا حصہ ہے اور صدیوں سے یہ روایت چلی آ رہی ہے۔ ماہ صیام میں رضاکار نوجوان روزہ داروں اور حج کے ایام میں عازمین حج کی خدمت اور مدد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صرف مقامی شہری ہی نہیں بلکہ مدینہ منورہ میں مقیم دوسرے ملکوں کے شہری اور خاندان بھی افطار کے دوران روزہ داروں کی مدد اور ان کی خدمت کو اپنے لیے اجروثواب کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کے لیے واحد آپشن


بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…