جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی،تازہ ترین سروے کے نتائج نے سب کو حیران کردیا

datetime 7  جون‬‮  2016 |

لندن(این این آئی)برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی،تازہ ترین سروے کے نتائج نے سب کو حیران کردیا،رائے عامہ کے تازہ جائزوں سے معلوم ہوا ہے کہ برطانیہ کے یورپی یونین چھوڑنے کی مہم زور پکڑ رہی ہے۔سارے برطانیہ میں اِس مناسبت سے ایک نیشنل ریفرنڈم رواں مہینے کی 23 تاریخ کو ہو گا۔برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق برطانیہ کے یورپی یونین میں رہنے یا خیرباد کہنے کے ریفرنڈم کی مہم میں انتہائی گرمی دیکھی جا رہی ہے۔ فریقین اپنی اپنی مہم کو کامیاب بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ رائے عامہ کے تازہ ترین جائزوں کے مطابق یورپی یونین چھوڑنے کی مہم کو چار سے پانچ فیصد کی سبقت حاصل ہو گئی ہے۔گزشتہ ویک اینڈ پر تین مختلف اداروں نے رائے عامہ کے جائزے مرتب کر کے عام کیے ہیں۔ آئی سی ایم کے جائزے میں سترہ سو سے زائد افراد نے اپنی رائے دی اور اِس کے مطابق 48 فیصد یونین چھوڑنے کے حق میں ہیں جبکہ 43 فیصد اپنے ملک کے یونین میں رہنے کے حق میں ہیں۔ آئی سی ایم کے مطابق گزشتہ ہفتے یونین کی رکنیت رکھنے کے حق میں رائے دینے والوں کا تناسب 44 فیصد تھا۔اِسی طرح رائے عامہ کا جائزہ مرتب کرنے والے ایک اور ادارے یْو گوونے ساڑھے تین ہزار افراد کی آرا اکھٹی کیں۔ اِس کے مطابق 45 فیصد لوگ یورپی یونین کو چھوڑنے کے حق میں ہیں۔ اس کے مقابلے میں رکنیت رکھنے کے حق میں رائے دینے والوں کا تناسب 41 فیصد ہے۔ یْوگوو کے مطابق پہلی جون کے سروے میں رکنیت چھوڑنے کے حق میں چالیس فیصد لوگ تھے اور ایک ہفتے کے دوران اِس میں پانچ فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ پہلی جون کو یونین میں رہنے کے حق میں 42 فیصد رائے دہندگان تھے اور اب اِس میں ایک فیصد کی کمی پیدا ہو گئی ہے۔گزشتہ روز کْل آٹھ رائے عامہ کے جائزوں کے نتائج کو عام کیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک کے نتیجے کے مطابق حق اور مخالفت میں افراد تقریباً برابر ہیں۔ دو میں بتایا گیا کہ یونین میں رہنے والوں کی تعداد زیادہ ہے جبکہ پانچ میں واضح کیا گیا کہ برطانوی شہری یورپی یونین کو چھوڑنے کے حق میں ہیں۔ ان جائزوں کے مطابق گیارہ فیصد ابھی تک فیصلہ نہیں کر سکے ہیں۔ اس تعداد میں بھی دو فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے وزراء بھی یورپی یونین میں رہنے کے حق میں رابطہ مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کیمرون کے وزیر خزانہ جارج اوسبورن اسی سلسلے میں شمالی آئرلینڈ پہنچے ہوئے ہیں۔ بیلفاسٹ میں تقریر کرتے ہوئے اوسبورن نے کہا کہ اگر یورپی یونین کو چھوڑنے کی مہم ریفرنڈم میں کامیاب ہو گئی تو اِس کے ناقابلِ تلافی معاشی اثرات مرتب ہوں گے۔ ان کے مطابق سالانہ تجارتی حجم بھی سکڑ کر رہ جائے گا۔ جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے بھی برطانوی عوام کو اخراج کی صورت میں غیر معمولی اقتصادی مسائل پیدا ہونے سے خبردار کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…