بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

سعودی عرب نے امدادبند کرنے کا اعلان کردیا ، وجہ کیا بنی ؟ جانیے

datetime 20  فروری‬‮  2016 |

الریاض(نیوز ڈیسک)سعودی عرب نے لبنان کے لیے فوجی امدادبندکرنے کا اعلان کردیا،ادھرلبنان کے موجودہ وزیراعظم تمام سلام نے سعودی عرب کے تازہ فیصلے پر اپنے رد عمل میں کہاہے کہ انہیں ریاض کی جانب سے بیروت کی فوجی امداد بند کرنے کے اس فیصلے پر افسوس ہے،غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سعودی عرب کے ذمہ دار عہدیدار نے بتایا کہ مملکت، لبنانی فوج اور داخلی سلامتی کے اداروں کو اسلحہ فراہمی بند کر دے گی کیونکہ بیروت کا حالیہ موقف دونوں ملکوں کے درمیان برادرانہ تعلقات کا عکاس نہیں ہے۔اسی ذمہ دار عہدیدار نے مزید بتایا کہ ان حقائق کی روشنی میں سعودی عرب نے جمہوریہ لبنان کے ساتھ اپنے تعلقات کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے فرانس کے ذریعے لبنانی فوج کو ارب ڈالر مالیات کا اسلحہ فراہمی روک دی جائے۔ لبنان کی داخلی سلامتی کے اداروں کو اربوں ڈالر مالیت کا باقی اسلحہ فراہم نہ کیا جائے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ مملکت سعودی عرب نے حالات کو اس نہج پر نہ لانے کی مقدور بھر کوششیں کیں اور ساتھ ہی لبنانی عوام کے تمام فرقوں کے ساتھ کھڑا رہنا چاہا کیونکہ وہ لبنان کے لئے اپنی امداد جاری رکھنا چاہتا تھا۔ لیکن حالیہ پیدا شدہ صورتحال کے بعد وہ ایسا کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ سعودی عرب کو یقین ہے کہ بیروت کا موجودہ نقطہ نظر برادر لبنانیوں کے موقف کا عکاس نہیں۔سعودی ذرائع نے اپنے بیان کے اختتام پرکہا کہ ریاض، لبنان کے بعض عہدیداروں بشمول وزیر اعظم تمام سلام کے نقطہ ہائے نظر کی تحسین کرتا ہے جس میں انہوں نے سعودی عرب کا ساتھ دیتے ہوئے یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ادھر سعودی عرب کی جانب سے لبنان کی فوجی امداد بند کرنے کے اعلان پر لبنانی سیاسی قیادت کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ لبنان کے سابق وزیراعظم اور ’’فیوچر گروپ‘‘ کے سربراہ سعدحریری نے کہاکہ ریاض کی جانب سے بیروت کی مسلح افواج کی امداد بند کرنے کے اعلان کو باریک بینی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ لبنان کے موجودہ وزیراعظم تمام سلام نے سعودی عرب کے تازہ فیصلے پر اپنے رد عمل میں کہا کہ انہیں ریاض کی جانب سے بیروت کی فوجی امداد بند کرنے کے اچانک اعلان سے بہت دکھ اور افسوس ہوا ہے۔بیروت میں وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ریاض کی جانب سے فوجی امداد کی بندش کا یہ پہلا اور آخری فیصلہ ہے۔ سعودی عرب کی حکومت جو مناسب سمجھتی ہے وہی کرتی ہے تاہم انہوں نے خواہش ظاہرکی کہ ریاض اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے کیونکہ موجودہ وقت میں لبنانی فوج کی فوجی امداد بند کرنے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔وزیراعظم تمام سلام نے کہا کہ سعودی عرب اور لبنان کے گہرے دوستانہ اور برادرانہ تعلقات ہیں۔ ہم اپنی دوستی اور بھائی چارے کو مشترکہ مقاصد اور مفادات کی خاطر قائم و دائم رکھنا چاہتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…