پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

بھارتی فضائیہ کی طاقت 42اسکوادڑن سے کم ہو کر 35اسکواڈرن رہ گئی

datetime 18  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(سپیشل رپورٹ )بھارتی ائیر فورس کے گزشتہ3 ماہ میں 7اور گزشتہ 60ماہ میں 50لڑاکا طیارے فضائی حادثات میں تباہ ہوگئے۔ ہر 37دن بعد 1بھارتی لڑاکا طیارہ حادثے کا شکار ہو رہا ہے جس کے باعث بھارتی فضائیہ کی طاقت 42اسکوادڑن سے کم ہو کر 35اسکواڈرن رہ گئی ہے۔ پاکستان اور بھارتی فضائیہ کے درمیان خلا جلد ختم کرنے والا ہے، چین کے لڑاکا طیارے بھارت سے 3گنا زیادہ ہیں۔ بھارتی نشرےاتی ادارے کے مطابق بھارتی فوج میں حادثات کی بڑھتی شرح پریشانی کا موجب بن رہی ہے۔ الہ آباد کے قریب جیگوار تربیتی طیارے کے حادثے کے ساتھ رواں برس الہ آباد میں جنگی طیاروں کے حادثات کی تعداد6 ہوگئی۔ رپورٹ کے مطابق زائد المعیاد بیڑے اور سکواڈرن کی طاقت میں کمی ساتھ ساتھ فضائی حادثے بھارتی فضائیہ کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے۔ گزشتہ روز الہ آباد میں طیارے کی تباہی کے ساتھ جنوری 2015سے اب تک یہاں یہ چھٹا فضائی حادثہ تھا۔ بھارتی فضائیہ کے ترجمان ونگ کمانڈر ایس ایس بریدی کا کہنا ہے کہ بھارتی فضائیہ اوسطاً ہر 37 دن بعد 1طیارے کو حادثے میں کھو رہی ہے۔ بھارتی فضائیہ آئی اے ایف کے فضائی حادثوں کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گزشتہ60 ماہ میں50 بھارتی لڑاکا طیارے فضائی حادثوں میں تباہ ہوئے۔ ملٹری ڈیٹا کے مطابق چین کی پہلے ہی بھارت سے لڑاکا طیاروں کی تعداد 3گنا زیادہ ہے، پاکستان بھارت کے ساتھ مقابلے کے اس خلا کو بہت جلد ختم کرنے والا ہے۔ پاک ایئر فورس کے پہلے ہی21 سے زائد فعال جنگی اسکواڈرن ہیں اور کم از کم4 سے زیادہ ابھی شامل کیے جانے والے ہیں۔ جنوری سے اب تک2 مگ27، 1سکھوئی30 ایم کے آئی، 1مگ 21، 1ایم آئی 35ہیلی کاپٹر، 1ہاک ایڈوانسڈ جیٹ ٹرینر گر کر تباہ ہو چکے ہیں۔ جون2010 کے بعد سے،

مزید پڑھئے:بچہ پیدا کریں، پانچ ہزار یورو لیں

لڑاکا طیارے، ٹرانسپورٹ طیاروں اور یہاں تک کہ جدید خصوصی آپریشن طیارہ سی130 جے گر کر تباہ ہو چکے ہیں۔ ایک طیارے کی قیمت لاکھوں ڈالر میں ہے اور خاص کر سکھوئی کی تباہی نے200 مضبوط بیڑے کی تیاری پر سوال اٹھایا ہے۔ آڈٹ رپورٹ میں ان طیاروں کی تباہی کی وجہ تکنیکی اور انسانی غلطی قرار دیا گیا۔ بھارتی فضائیہ کی طے شدہ فضائی طاقت42 لڑاکا اسکواڈرن ہے، جو اب 35رہ چکی ہے۔ اس صورت میں 36رافیل کے خریدنے سے بھی انہیں کوئی فائدہ نہیںہے ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…