جمعہ‬‮ ، 19 جون‬‮ 2026 

میانمارمیں فوجی کارروائی اورپاکستان پر حملے کی دھمکیاں،بی جے پی اور کانگریس میں ٹھن گئی

datetime 12  جون‬‮  2015 |

نئی دہلی (نیوزڈیسک)بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس پارٹی نے کہا ہے کہ وزیراعظم نریندرا مودی کے سنیئر ساتھی میانمار میں متنازع فوجی کارروائی پر جارحانہ بیانات دے رہے ہیں جبکہ بھارتی حکومتی جماعت کے ترجمان نے کہا ہے کہ اپوزیشن پاکستان کی زبان بول رہی ہے ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق دونوں جماعتوں کے درمیان بیانات کا یہ تبادلہ نریندر مودی کے ساتھیوں کی جانب سے شمال مشرقی ریاست منی پور کے علیحدگی پسندوں کے خلاف بھارتی فوج کی کارروائی پر تبصروں کے بعد ہوا۔ پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق بی جے پی نے اپوزیشن جماعت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کانگریس تعمیری اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کی بجائے پاکستان کی زبان بول رہی ہے۔کانگریس کے ترجمان آنند شرما نے وزیر دفاع منوہر پاریکر کے تند و تیز بیان کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا تھا کہ وہ غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے کی عادت کا شکار ہیں۔آنند شرما کا یہ بیان وزیر دفاع کے ایک روز پہلے کے بیان کے بعد سامنا آیا جس میں منوہر پاریکر نے میانمار آپریشن کو ذہن کی تبدیلی قرار دیا تھا جو بظاہر ان کی جانب سے پاکستان کے لیے اشارہ تھا۔کانگریس ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ سنجیدگی اور باشعور سوچ کا مظاہرہ کیا جانا چاہئے، جارحانہ اور پرغرور دعوے انڈین اسپیشل فورسز کے آپریشنز میں مددگار ثابت نہیں ہوسکتے۔انہوں نے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کو مناسب الفاظ کے ساتھ بولنے اور کام کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کا انداز سنجیدہ سوالات کو اٹھاتا ہے۔انہوںنے کہاکہ میں وزیراعظم سے درخواست کروں گا کہ وہ انہیں رہنمائی اور مشاورت فراہم کریں -وزیراعظم کو اپنے وزراءکو روکنا چاہئے تاکہ ایسا پھر دوبارہ نہ ہوسکے۔کانگرنس کے ترجمان نے کہا کہ جو لوگ قومی سلامتی کا خیال رکھ رہے ہیں وہ منی پور کے حالات پر اخبارات اور فوٹو گرافس کو اسپانسر کرنے میں مصروف ہیں آنے والے دنوں کے لیے وہ کیا تجویز کرنا چاہتے ہیں۔کانگرنس کی تنقید پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی کے نیشنل سیکرٹری سری کانت شرما نے کہا کہ کانگریس لوک سبھا میں انتخابات میں شکست کے بعدسے مایوسی کا شکار ہے، وہ ہر چیز پر تنقید اور منفی خیالات کا اظہار کرتی ہے۔انہوں نے کہاکہ کانگریس کو حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے پاکستان کی زبان بولنے سے گریز کرنا چاہئے جیسا وہ ماضی میں کرتی رہی ہے۔ اسے تعمیری اپوزیشن کا کردار ادا کرنا چاہئے اور قومی مفاد اور ملکی سلامتی پر بات کرنی چاہئے۔سری کانت شرما نے کہا کہ کانگریس کو یہ معاملہ سیاسی نہیں بنایا چاہئے اور اسے اپنے دس سالہ دور حکومت کی غلطیوں کو تسلیم کرنا چاہئے اب ملک میں مضبوط قیادت موجود ہے اور ماضی کی غلطیوں کو دوبارہ نہیں دہرایا جائےگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



فلم میں بھی ہارنے سے انکار


یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…