منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

’’جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے‘‘ فلک بوس عمارت کی47ویں منزل سے گرنے والا شخص اب کیسا ہے ؟

datetime 14  مارچ‬‮  2017 |

نیو یارک ( این این آئی)امریکہ میں ایک فلک بوس عمارت کی 47ویں منزل سے گرنے والا شخص نہ صرف زندہ بچ گیا بلکہ بالکل صحیح سلامت ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایکواڈور سے تعلق رکھنے والا مزدور السیدس مورینو اور اس کا بھائی ادگار 2 سال قبل نیو یارک میں واقع سولو ٹاور کی کھڑکیاں صاف کر رہے تھے کہ اس دوران اچانک لفٹ ٹوٹنے کے باعث دونوں حادثے کا شکار ہو کر 47 ویں منزل سے گر پڑے۔

ادگار تو اس حادثے میں چل بسا مگر مورینو انتہائی بلندی سے گرنے کے نتیجے میں زخموں سے چور ہوگیا مگر زندگی نے اس کے ساتھ وفا کی۔ مورینو طویل علاج معالجے کے بعد آج بھی زندہ و سلامت ہے۔علاج کے لیے مورینو کو خون کے 24 یونٹ اور پلازما کے 19 یونٹ لگے اس کے جسم کا پورا خون 2 بار تبدیل کیا گیا۔ ٹوٹ پھوٹ کے شکار جسم کی 16 سرجریاں کی گئیں۔ گرنے کے نتیجے میں جسم کے مختلف حصوں کی 10 ہڈیاں ٹوٹ چکی تھیں۔ دونوں گردے اور پھیپھڑے بھی زخمی ہوئے تھے۔ بازو اور ٹانگیں بھی ٹوٹ چکی تھیں اور جسم کے بقیہ حصوں پر بھی چپے چپے پر زخم تھے۔معجزاتی طور پر زندہ بچ جانے والے السیدس مورینو کا کہنا ہے کہ حادثے کے نتیجے میں اس کی موت یقینی تھی مگر قدرت نے اسے بچا لیا۔ اس نے بتایا کہ حادثے میں وہ دونوں 144میٹر کی بلندی سے اور 190 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے نیچے گرے۔ وہ جس کرین پر کھڑے تھے پہلے اس کی بائیں طرف کی رسی ٹوٹی اور اس کا بھائی ادگار نیچے لکڑی کی ایک دیوار پر جا لگا جس کے نتیجے میں اس کا جسم دو حصوں میں بٹ گیا۔ چند لمحے بعد دائیں جانب کی رسی بھی ٹوٹ گئی اور وہ بھی کرین کے ساتھ زمین پر جا گرا۔ نیچے گرنے کے فوری بعد میرے قریب ریسکیو کا عملہ موجود تھا میں مکمل طور پر ہوش میں تھا۔مورینو کا کہنا ہے کہ حادثے کے بعد گزشتہ برس اس کی اہلیہ کے ہاں چوتھے بچے کی پیدائش ہوئی ہے۔ وہ خود بھی معجزاتی طور پر اپنی زندگی بچ جانے پرحیران ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…