اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

’’جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے‘‘ فلک بوس عمارت کی47ویں منزل سے گرنے والا شخص اب کیسا ہے ؟

datetime 14  مارچ‬‮  2017 |

نیو یارک ( این این آئی)امریکہ میں ایک فلک بوس عمارت کی 47ویں منزل سے گرنے والا شخص نہ صرف زندہ بچ گیا بلکہ بالکل صحیح سلامت ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایکواڈور سے تعلق رکھنے والا مزدور السیدس مورینو اور اس کا بھائی ادگار 2 سال قبل نیو یارک میں واقع سولو ٹاور کی کھڑکیاں صاف کر رہے تھے کہ اس دوران اچانک لفٹ ٹوٹنے کے باعث دونوں حادثے کا شکار ہو کر 47 ویں منزل سے گر پڑے۔

ادگار تو اس حادثے میں چل بسا مگر مورینو انتہائی بلندی سے گرنے کے نتیجے میں زخموں سے چور ہوگیا مگر زندگی نے اس کے ساتھ وفا کی۔ مورینو طویل علاج معالجے کے بعد آج بھی زندہ و سلامت ہے۔علاج کے لیے مورینو کو خون کے 24 یونٹ اور پلازما کے 19 یونٹ لگے اس کے جسم کا پورا خون 2 بار تبدیل کیا گیا۔ ٹوٹ پھوٹ کے شکار جسم کی 16 سرجریاں کی گئیں۔ گرنے کے نتیجے میں جسم کے مختلف حصوں کی 10 ہڈیاں ٹوٹ چکی تھیں۔ دونوں گردے اور پھیپھڑے بھی زخمی ہوئے تھے۔ بازو اور ٹانگیں بھی ٹوٹ چکی تھیں اور جسم کے بقیہ حصوں پر بھی چپے چپے پر زخم تھے۔معجزاتی طور پر زندہ بچ جانے والے السیدس مورینو کا کہنا ہے کہ حادثے کے نتیجے میں اس کی موت یقینی تھی مگر قدرت نے اسے بچا لیا۔ اس نے بتایا کہ حادثے میں وہ دونوں 144میٹر کی بلندی سے اور 190 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے نیچے گرے۔ وہ جس کرین پر کھڑے تھے پہلے اس کی بائیں طرف کی رسی ٹوٹی اور اس کا بھائی ادگار نیچے لکڑی کی ایک دیوار پر جا لگا جس کے نتیجے میں اس کا جسم دو حصوں میں بٹ گیا۔ چند لمحے بعد دائیں جانب کی رسی بھی ٹوٹ گئی اور وہ بھی کرین کے ساتھ زمین پر جا گرا۔ نیچے گرنے کے فوری بعد میرے قریب ریسکیو کا عملہ موجود تھا میں مکمل طور پر ہوش میں تھا۔مورینو کا کہنا ہے کہ حادثے کے بعد گزشتہ برس اس کی اہلیہ کے ہاں چوتھے بچے کی پیدائش ہوئی ہے۔ وہ خود بھی معجزاتی طور پر اپنی زندگی بچ جانے پرحیران ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…