بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

اے آئی کی مدد سے کورونا سمیت مختلف عالمی وباؤں کو روکنے کی ویکسین تیار

datetime 6  جون‬‮  2026 |

لندن (نیوز ڈیسک) برطانیہ کی معروف تعلیمی و تحقیقی درسگاہ کیمبرج یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے

مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے ایک ایسی جدید ویکسین تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو مستقبل میں پیدا ہونے والی مختلف وبائی بیماریوں کے خلاف تحفظ فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔محققین کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ کسی ویکسین کے بنیادی جزو، یعنی اینٹیجن، کو مکمل طور پر مصنوعی ذہانت کے ذریعے ڈیزائن کیا گیا اور بعد ازاں اس کا انسانی رضاکاروں پر ابتدائی تجربہ بھی کامیابی سے مکمل کیا گیا۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ ویکسین کورونا وائرس کی مختلف اقسام سمیت اس کے پورے خاندان کے خلاف مؤثر مدافعت پیدا کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والے ممکنہ نئے وائرسز کے خلاف بھی اس کے مؤثر ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔عام ویکسینز کسی مخصوص وائرس کے خلاف جسم کے دفاعی نظام کو متحرک کرتی ہیں، تاہم وائرس وقت کے ساتھ اپنی ساخت تبدیل کرتے رہتے ہیں، جس کے باعث نئی ویکسینز تیار کرنا پڑتی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ کورونا اور بعض دیگر بیماریوں کی ویکسینز میں وقفے وقفے سے تبدیلیاں کی جاتی رہی ہیں۔تحقیق کی قیادت کرنے والے پروفیسر جوناتھن ہینی کے مطابق روایتی طریقہ کار میں سائنسدان وائرس کے بدلتے ہوئے روپ کا انتظار کرتے ہیں، جبکہ نئی ٹیکنالوجی کا مقصد وائرس کی ممکنہ تبدیلیوں کا پہلے سے اندازہ لگا کر مؤثر تحفظ فراہم کرنا ہے۔اس منصوبے کے لیے کسی ایک وائرس کو بنیاد بنانے کے بجائے دنیا بھر سے جمع کیے گئے متعدد کورونا وائرسز کے جینیاتی ڈیٹا کو اے آئی سسٹم میں شامل کیا گیا۔ مصنوعی ذہانت نے ان معلومات کا تجزیہ کرتے ہوئے ایک ایسا جامع اینٹیجن تیار کیا جو انسانی مدافعتی نظام کو وائرس کے مختلف روپوں کی شناخت اور ان کے خلاف ردعمل دینے کی تربیت فراہم کر سکتا ہے۔پروفیسر ہینی نے اس پیش رفت کو صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے مثبت استعمال کی ایک اہم مثال قرار دیا۔ ان کے مطابق ابتدائی مرحلے میں 39 افراد پر آزمائش کی گئی تاکہ ویکسین کی حفاظت اور ابتدائی اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔

سائنسی جریدے جرنل آف انفیکشن میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق ابتدائی نتائج میں مدافعتی ردعمل محدود دیکھا گیا، تاہم ماہرین اسے ایک حوصلہ افزا آغاز قرار دے رہے ہیں۔تحقیق کے اگلے مرحلے میں تقریباً 200 رضاکاروں پر مزید تجربات جاری ہیں تاکہ ویکسین کی مؤثریت اور مدافعتی نظام پر اس کے اثرات کو بہتر انداز میں جانچا جا سکے۔یونیورسٹی آف ساؤتھمپٹن کے پروفیسر ساؤل فوسٹ نے بھی اس تحقیق کو مستقبل کی وباؤں سے نمٹنے کی جانب ایک اہم اور امید افزا پیش رفت قرار دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…