جمعہ‬‮ ، 06 مارچ‬‮ 2026 

گردوں میں خطرناک انفیکشن کی علامات

datetime 30  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) انسانی جسم میں گردوں کا بنیادی کام کچرے اور خون میں اضافی پانی کی صفائی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ عضو پیشاب کی نالی سے جڑا ہوتا ہے جو کچرے کو خارج کرنے میں مدد دیتا ہے۔ عام طور پر مثانے یا پیشاب کی نالی میں بیکٹریا کے نتیجے میں سوزش ہوتی ہے جس کا علاج نہ ہو تو وہ گردوں کے انفیکشن میں تبدیل ہوجاتی ہے، جس سے گردوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یا دوران خون کے ذریعے پھیل کر جان لیوا انفیکشن کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق گردوں میں انفیکشن کا مرض آج کل بہت تیزی سے پھیل رہا ہے جس کے حوالے سے لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ گردوں کے امراض کی 9 نشانیاں وجوہات جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ گردوں میں انفیکشن عام طور پر مثانے میں انفیکشن سے ہوتی ہے اور یہ بیکٹریا ای کولی کے باعث ہوتا ہے مگر کچھ اور بیکٹریا بھی یہ خطرہ بڑھاتے ہیں۔ یہ مرض خواتین اور مردوں دونوں کو لاحق ہوسکتا ہے تاہم خواتین میں اس کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ اسی طرح گردوں میں پتھری یا پیشاب میں رکاوٹ بننے والی کوئی وجہ بھی اس کا خطرہ بڑھاتی ہے۔ گردے فیل ہونے کی یہ علامات جانتے ہیں؟ علامات زیادہ پیشاب آنا گردوں میں انفیکشن کی ابتدائی علامت عام طور پر معمول سے زیادہ ٹوائلٹ کے چکر لگانے کی شکل میں سامنے آتی ہے، کیونکہ اس کے نتیجے میں مثانے کو خارج زیادہ ہوتی ہے اور وہ اس سے بچنے کے لیے پیشاب کے اخراج کا سہارا لیتا ہے۔ پیشاب میں خون آنا اکثر گردوں میں انفیکشن ایسے بیکٹریا سے ہوتا ہے جو پیشاب کی نالی سے سفر کرکے مثانے اور پھر گردوں میں پہنچتے ہیں، جب جسم اس انفیکشن کے خلاف مزاحمت کرتا ہے تو خون کے سرخ خلیات پیشاب کے راستے خارج ہونے لگتے ہیں۔ کمر درد گردے اگر انفیکشن سے متاثر ہو تو سوجن کا شکار ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں کمردرد کی شکایت ہوتی ہے۔

کیونکہ وہ کمر کے بہت قریت ہوتے ہیں، یہ تیز درد کمر کے نچلے حصے میں محسوس ہوتا ہے۔ پیشاب کرتے ہوئے تکلیف چونکہ گردوں میں انفیکشن پیشاب کی نالی میں سوزش کی ایک قسم ہوتی ہے تو اس کا اثر مثانے کے نظام پر بھی ہوتا ہے۔ یہ بیکٹریا پیشاب کی نالی کے ٹشو اور اعصاب کو بھی متاثر کرتاہ ے جس کے باعث پیشاب کرتے ہوئے تکلیف محسوس ہوتی ہے۔

پیشاب میں جھاگ گردوں میں انفیکشن کے نتیجے میں پیشاب جھاگ دار ہوسکتا ہے، طبی ماہرین کے مطابق اس انفیکش سے لڑنے کے لیے جسم خون کے سفید خلیات کو بھیجتا ہے، جو کہ پیشاب میں جھاگ کی شکل میں نظر آتا ہے۔ بدبو دار پیشاب پیشاب میں انتہائی ناگوار بو محسوس ہو تو یہ بھی گردوں میں انفیکشن کی ایک علامت ہوسکتی ہے، درحقیقت یہ بیکٹریا کا اجتماع ہوتا ہے تاہم اس کا فیصلہ ڈاکٹر پر چھوڑ دیں۔

کیونکہ ایسا جسم میں پانی کی کمی کی صورت میں بھی ہوسکتا ہے۔ پیپ آنا سنگین معاملات میں پیشاب سے پیپ کا اخراج بھی ہوسکتا ہے۔ سر چکرانا اگر گردوں میں انفیکشن کا علاج نہ کرایا جائے تو یہ دوران خون تک پھیل جاتا ہے جس کے نتیجے میں پورا جسم متاثر ہوسکتا ہے، اس انفیکشن کا باعث بننے والے بیکٹریا سے ہونے والا ورم خون کی شریانوں کو پھیلا سکتا ہے جس سے بلڈ پریشر کی سطح اچانک کم ہوتی ہے اور سرچکرانے لگتا ہے۔ بخار گردوں میں انفیکشن کے نتیجے میں اکثر جسمانی درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے۔

یعنی بخار جیسی کیفیت طاری ہوجاتی ہے، یہ بنیادی طور پر جسم کا ردعمل ہوتا ہے۔  پیشاب کی نالی میں سوزش کی عام وجوہات بچاﺅ کے لیے کیا کریں؟ زیادہ مقدار میں پانی پینا عادت بنالیں تاکہ پیشاب کے راستے بیکٹریا خارج ہوجائیں۔ زیادہ آرام کریں۔ پیشاب نہ روکیں۔ کب ڈاکٹر سے رجوع کریں؟ اگر اوپر دی گئی علامات ظاہر ہوں تو ڈاکٹر سے فوری رجوع کریں کیونکہ گردوں میں شدید انفیکشن جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہے، خصوصاً اگر پیشاب میں خون آئے یا قے کرتے ہوئے نکلنے والے مواد میں خون کی آمیزش نظر آئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



عربوں کا کیا قصورہے؟


ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…