پیر‬‮ ، 01 جون‬‮ 2026 

بلڈ پریشر سے کیسے بچا جائے! ڈاکٹر کے پاس جانے کے بجائے گھر بیٹھ کر ان نسخوں پر عمل کریں اور چند دنوں میں ہی واضح فرق محسوس کریں

datetime 13  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)انڈے کی سفیدی کا استعمال فشار خون یا بلڈ پریشر میں کمی کا سبب بنتا ہے۔ چین کی جیلین یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق انڈے کی سفیدی میں ایسا امینو مرکب RVPSL یا پروٹین شامل ہے جو بلڈ پریشر میں کمی کرتا ہے جس سے امراض قلب کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے۔ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ انڈے کی سفیدی کا استعمال مریضوں کو اپنا بلڈ پریشر کنٹرول میں رکھنے میں مدد کرتا ہے۔ تحقیق کے دوران چوہوں پر اس

کی کامیاب آزمائش کی گئی اور اب انسانوں پر اسے آزمایا جارہا ہے۔چائے کے 3 کپ کا روزانہ استعمال بلڈ پریشر کیخلاف مفید،3 کپ چائے کا روزانہ استعمال بلڈ پریشر کو معمول پر رکھ کر امراض قلب کا خطرہ کم کردیتا ہے۔ ویسٹرن آسٹریلیا یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق چائے کا استعمال اس لئے فائدہ مند ہوتا ہے کیونکہ اس میں اینٹی آکسائیڈنٹ جز فلیونوئیڈ شامل ہوتا ہے جو امراض قلب کی روک تھام کرتا ہے۔ محقق پروفیسر جوناتھن ہوگسن کے مطابق اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ چائے دل کی صحت کے لئے بہترین ہے، مگر اب اس رابطے کی تصدیق ہوگئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے علم میں پہلی بار آیا ہے کہ بغیر دودھ کی چائے کا استعمال بلڈ پریشر میں کمی کا سبب بنتا ہے۔تحقیق کے مطابق سیاہ چائے کے 3 کپ کا روزانہ استعمال بلڈ پریشر میں اضافے کا خطرہ 10 فیصد تک کم کردیتا ہے۔دالوں کا استعمال بلڈ پریشر کو شکست دینے کیلئے مفید،دالوں کا استعمال بلڈ پریشر کی شرح میں جان لیوا اضافے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ کینیڈا کی مینٹوبا یونیورسٹی کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مسور کی دال کا استعمال خون کی رگوں کی صحت پر بھی مثبت اثرات کرتا ہے۔تحقیق کے مطابق دالوں کا استعمال دوران خون کی

خرابیوں اور بلڈ پریشر کیخلاف انتہائی فائدہ مندثابت ہوتا ہے، کیونکہ خون کی رگوں کا نظام درست رہنے سے ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ خودبخود کم ہوجاتا ہے۔ تحقیقی ٹیم کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ دالیں خون کی رگوں میں تبدیلیاں لاکر ان کو پہنچنے والے نقصانات کی مرمت کردیتی ہیں۔انکا کہنا تھا کہ چوہوں پر اس کی کامیاب آزمائش ہوچکی ہیں تاہم انسانوں پر ابھی اس کے اثرات کی تصدیق کرنا باقی ہے۔ تاہم تحقیق میں کہا

گیا ہے کہ دالیں خون کی رگوں کا انتہائی سادہ، سستا اور بہتر طریقہ علاج ہے۔صرف 20 منٹ کی تیز چہل قدمی بلڈ پریشر کو شکست دینے کیلئے کافی ہفتہ بھر میں چند بار صرف 20 منٹ کی تیز چہل قدمی ہائی بلڈ پریشر کو شکست دینے کیلئے کافی ہے۔ جارج واشنگٹن یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق لوگ محض اس چھوٹی سی عادت کو اپنا کر اپنی طویل زندگی کے امکانات کو بہتر کرسکتے ہیں چاہے وہ سست طرز زندگی کے ہی عادی کیوں نہ ہو۔

تحقیق کے مطابق تیز چہل قدمی کے عادی 70 سال سے زائد عمر کے افراد میں کم فٹ لوگوں کے مقابلے میں موت کا خطرہ 50 فیصد تک کم ہوتا ہے۔ تحقیقی ٹیم کا کہنا ہے کہ ہفتے میں کئی روز صرف 20 سے 40 منٹ کی تیزز چہل قدمی بزرگ افراد کے اندر فٹنس لیول بڑھاتا ہے۔بلڈپریشر سے بچاو کا سب سے آسان نسخہ اگر آپ بلڈ پریشر جیسے جان لیوا مرض سے بچنا چاہتے ہیں؟ اگر ہاں تو سورج کی روشنی اس کے لئے موثر ہتھیار ثابت ہوسکتی ہے۔

ساوتھ آسٹریلیا یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق جسم میں وٹامن ڈی کی مقدار بڑھنے سے بلڈ پریشر سمیت دل کے دورے اور فالج جیسے امراض کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جسمانی نظام میں 10 فیصد تک کا اضافہ بلڈپریشر کو کم رکھتا ہے اور فشار خون میں اضافے کا امکان 8.1 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔ یہ وٹامن جسم میں سورج کی روشنی کے ذریعے جذب ہوتا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ انڈوں، گوشت اور تیل والی مچھلی میں بھی معمولی مقدار میں پایا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…