برلن(مانیٹرنگ ڈیسک)کینسر پر تحقیق کے ایک بین الاقوامی ادارے آئی اے آر سی کا کہنا ہے کہ بہت گرم مشروبات اور چائے کے استعمال سے سرطان کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔گرم مشروب کا درجہ حرارت 65 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ ہو تو نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہیتحقیق کے مطابق،کافی، جسے پہلے سرطان کا سبب سمجھا جاتا تھا، کا لطف اگر مناسب درجہ حرارت پر اٹھایا جائے تو اس سے کینسر ہونے کا خطرہ نہیں۔ کینسر پر تحقیق کے لیے بین الاقوامی ادارے آئی اے آر سی کے مطابق جنوبی امریکا میں رغبت سے پی جانے والی چائے اور ایک طرح کے پتوں سے تیار کردہ مشروب جس میں کیفین شامل ہوتی ہے، اگر پیتے وقت ان کا درجہ حرارت 65 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ ہو تو وہ نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔دنیا میں شوق سے پیئے جانے والے گرم مشروبات کے بارے میں اس جائزے میں شامل ماہر وبائیات ڈانا لومس کا کہنا ہے کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ مشروب کون سا ہے۔ اہم یہ ہے کہ اس کا درجہ حرارت کتنا ہے۔ دنیا بھر میں روزانہ کی بنیاد پر کافی کے 1.1 ارب کپ پیئے جاتے ہیں۔ کافی کے صنعت کاروں نے اس مشروب کو اْس فہرست سے نکالنے کا خیر مقدم کیا ہے، جس میں ان مشروبات کو شامل کیا گیا ہے، جن کا استعمال سرطان کا سبب بن سکتا ہے۔ امریکا میں قائم نیشنل کافی ایسوسی ایشن کے صدر بل مرے کا کہنا ہے، ’’سائنسی تحقیق کا شکریہ جس کی وجہ سے آج ہم نہ صرف کافی کی پیداوار پہلے سے زیادہ اعتماد کے ساتھ کر سکتے ہیں بلکہ اتنے ہی اعتماد سے اسے خرید بھی سکتے ہیں۔
‘‘کافی پر سائنسی معلومات کے لیے قائم ادارہ، جو اس شعبے میں نہایت باریک بینی سے تحقیقی کام کرتا رہتا ہے، کا کہنا ہے کہ کافی پینے والے افراد اسے عموماً 60 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم درجہ حرارت پر استعمال کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او) کے ماتحت ادارے آئی اے آر سی نے کینسر اور کافی اور خاص طرح کے پتوں سے بنائے جانے والے مشروب جن میں کیفین پائی جاتی ہے اور جو مشرق وسطی میں بھی بے حد مقبول ہیں، پر کیے جانے والے 1000 سے زائد سائنسی جائزوں کو یکجا کیا ہے۔ ان مشروبات کو آخری مرتبہ سن انیس سو اکیانوے میں ممکنہ طور پر انسانوں میں سرطان پیدا کرنے والے مادوں کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔تاہم آئی اے آر سی کے مطابق معمول کے درجہ حرارت پر دونوں میں سے کوئی ایک بھی مشروب کینسر کا سبب نہیں بن سکتا۔ بلکہ تحقیق سے ایسے اشارے ملے ہیں کہ بعض اقسام کے سرطان میں کافی کا استعمال فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ تمام دستیاب اعداد و شمار کو سامنے رکھتے ہوئے انسانوں میں کافی کے استعمال سے کینسر ہونے کے ثبوت ناکافی ہیں۔ چین، ایران، ترکی اور جنوبی امریکا کے ممالک میں چائے یا کیفین کے حامل پتوں سے بنا مشروب عموماً 70 ڈگری سینٹی گریڈ کے درجہ حرارت پر پیا جاتا ہے اور تقریباً اسی ٹیمپریچر پر افریقہ اور وسطی ایشیا کے کچھ حصوں میں دودھ والی چائے کا استعمال بھی کیا جاتا ہے۔ ان میں سے اکثر علاقوں میں گلے کے سرطان کی شرح بلند دیکھی گئی ہے۔ آئی اے آر سی کے مطابق اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ بہت گرم مشروبات اور چائے کے استعمال سے کینسر کا رسک بڑھ جاتا ہے۔
مشروبات اور چائے کا استعمال آپ کو ایک خطرناک بیماری میں مبتلا کر رہے ہیں، ماہرین نے خوفناک انکشاف کرد یا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
رمضان کے دوران دفتری اوقات کا نوٹیفکیشن جاری
-
پاکستان میں سونے کی قیمت میں بڑی کمی
-
گندم کی سرکاری سپورٹ پرائس فی من مقرر
-
خواتین و بچوں کے حقوق کی علمبردار اماراتی خاتون “ہند العویس” کے جیفری ایپسٹین سے تعلقات...
-
بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ
-
حکومت عمران خان کے علاج کےحوالے سے علیمہ خان کے مطالبہ پر رضا مند
-
رمضان المبارک میں گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان
-
حکومت نے بیرونِ ملک رخصت سے متعلق نئی ہدایات جاری کر دیں
-
ملک بھر میں سونے کی قیمت میں حیران کن اضافہ
-
سونا چاندی ڈرامے کی مشہور اداکارہ عابدہ بیگ کی مدد کی اپیل
-
گلوکار ادت نارائن کی پہلی بیوی کا چونکا دینے والا انکشاف سامنے آگیا
-
لاہور کے پوش علاقے میں ہمسائے نے گھر میں گھس کر 4 سالہ بچے کو تشدد کر کے قتل کر دیا
-
عمران خان کی صحت کا معاملہ، قاسم خان کا بیان آگیا
-
بہن کو کیوں ڈانٹا؛ 18 سالہ طالبعلم نے خاتون پرنسپل کو گولی مار کر قتل کردیا



















































