ہفتہ‬‮ ، 30 مئی‬‮‬‮ 2026 

فیس بک نے خود کا رٹریکنگ فیچر متعارف کرا دیا

datetime 11  فروری‬‮  2015 |

نیویارک ….. سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر درجنوں تصاویر اپ لوڈ کرکے ہر ایک کو ٹیک کرنا کافی اکتا دینے والا کام ثابت ہوتا ہے اور اب لگتا ہے کہ اس سوشل نیٹ ورک کو بھی صارفین کی اس تکلیف کا احساس ہوگیا ہے۔

جی ہاں فیس بک نے ایک نیا فیچر متعارف کرادیا ہے جس کے تحت ایک ایسا آٹومیٹک نظام کام کرے گا جو صارف کے دوستوں کے چہرے خودکار طور پر شناخت کرکے انہیں تصاویر ٹیگ کردے گا۔

ڈیپ فیس نامی یہ اللگوردم بالکل اسی طرح چہروں کی درست شناخت کرتا ہے جیسے انسان کرتے ہیں اور پھر صارف کو ٹیگ کی سفارش کرتا ہے جو وہ قبول یا مسترد کرسکتا ہے۔

یہ ٹیکنالوجی گزشتہ سال مارچ میں سب سے پہلے سامنے آئی تھی تاہم فیس بک نے اب اسے ابتدائی طور پر محدود صارفین کے لیے خودکار ٹیگنگ ٹول کے طور پر متعارف کرائی ہے۔

اس سافٹ ویئر کی خوبی یا خامی یہ ہے کہ یہ کسی بھی تصویر میں سے آپ کا چہرہ شناخت کرسکتا ہے چاہے آپ کسی کنسرٹ یا سیاسی جلوس کے ہجوم میں کہیں گم ہی کیوں نہ ہو۔

یہ ٹیکنالوجی فیس ڈاٹ کام نامی کمپنی کی تیار کردہ ہے جسے فیس بک نے 2012 میں خرید لیا تھا۔

اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ

اب یہ آپشن مختلف صارفین کے اکاﺅنٹس کی پرائیویسی سیٹنگز میں آنا شروع ہوگیا ہے تاہم فی الحال محدود تعداد میں ہی افراد اس سے مستفید ہوسکتے ہیں۔

درحقیقت فیس بک کے لیے ایک ٹیگ فوٹو بہت اہمیت رکھتی ہے کیونکہ کسی تصویر پر جتنا رابطہ بڑھے گا اتنی ہی اس سائٹ کی انگیج منٹ کو بھی فائدہ ہوگا اور پیسے بنانے کی صلاحیت بھی بڑھ جائے گی۔

اور اس نئے فیچر کی خاص بات ہی یہ ہے کہ آپ کی پرائیویسی میں ٹیگنگ کی سیٹنگ میں اگر فرینڈز کو ٹیگ کرنے کی اجازت حاصل ہے تو آپ کی کوئی بھی تصویر ان کی ٹائم لائن پر لوڈ ہوتے ہی آپ کو ٹیگ ہوجائے گی۔

اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…