منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

نئی دہلی میں کیجریوال پھر آ گئے،بی جے پی اور کانگرس کا صفایا

datetime 10  فروری‬‮  2015 |

نئی دہلی۔۔۔۔بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کے ریاستی انتخابات میں عام آدمی پارٹی کو واضح اکثریت حاصل ہونے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے فون کرکے اروند کیجریوال کو مبارکباد دی ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی شکست کو تسلیم کرتے ہوئے اروند کیجری وال سے مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔اب تک تمام 70 نشستوں کے رجحانات آ گئے ہیں جن میں عام آدمی پارٹی 65 نشستوں پر آگے ہے جبکہ بی جے پی چار اور ایک سیٹ پر انڈین لوک دل آگے ہے۔ریاست میں گذشتہ 15 سال تک حکومت کرنے والی جماعت کانگریس کا صفایا ہو گیا ہے۔جوں جوں مزید سیٹوں کے رجحانات سامنے آ تے گئے عام آدمی پارٹی کے خیمے میں خوشی کی لہر دوڑتی گئی جبکہ دوسرے خیموں میں مایوسی کے آثار واضح ہیں۔سات فروری کو نئی دہلی میں ووٹنگ مشینوں کے ذریعے ہوئی تھی اور اندازہ ہے کہ دوپہر تک بیشتر حلقوں کے رحجانات یا نتائج سامنے آ جائیں گے۔نئی دہلی ریاستی انتخابات میں اصل مقابلہ وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت بی جے پی اور اروند کیجریوال کی عام آدمی پارٹی کے درمیان ہے۔
عام آدمی پارٹی کے کارکنوں میں جیت کی امید پر بہت جوش و خروش پایا جاتا ہے
کانگریس ان انتخابات میں تیسری جماعت کے طور پر نظر آئی۔
ان انتخابات میں 67 فی صد سے زیادہ رائے دہندگان نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔
بی جے پی کی جانب سے کرن بیدی وزیر اعلی کی امیدوار ہیں جبکہ عام آدمی پارٹی کے صدر اروند کیجریوال ان کے مقابل ہیں۔نئی دہلی ریاستی انتخابا ت کے نتائج کے حوالے سے بھارت میں زبردست دلچسپی برقرار ہے اور ان نتائج کو وزیر اعظم نریندر مودی کی مقبولیت کا پہلا امتحان تصور کیا جا رہا ہے۔دہلی میں بی جے پی کے ریاستی دفتر میں سلمان راوی کے مطابق پارٹی کارکن سے زیادہ میڈیا کے افراد نظر آئے
دہلی پر پہلے بھی عام آدمی پارٹی کی حکومت تھی لیکن اس کے وزیرِ اعلیٰ کیجریوال نے گذشتہ فروری میں یہ کہہ کر استعفیٰ دے دیا تھا کہ ان کی انسدادِ بدعنوانی کی کوششوں کو مسدود کیا جا رہا ہے۔اس وقت سے دہلی بغیر کسی حکومت کے چل رہی ہے، اور اسے وفاقی حکام براہِ راست کنٹرول کر رہے ہیں۔کرن بیدی اور کیجریوال انسدادِ بدعنوانی کی مہم میں سماجی کارکن انا ہزارے کی قیادت میں ایک ساتھ کام کر چکے ہیں، تاہم اس کے بعد سے ان کی راہیں الگ ہو گئی تھیں اور اب دونوں میں سخت رقابت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…