منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

روس میں بلی کی حاضر دماغی نے شیر خوار بچے کی جان بچالی

datetime 17  جنوری‬‮  2015 |

ماسکو: دنیا کے ان ممالک میں جہاں کتوں اور بلیوں کو نہ صرف پالتو جانور کے طور پر پالا جاتا ہے بلکہ ان سے محبت بھی کی جاتی ہے تو یہ جانور بھی اس کا جواب اپنی بھر پور محبت سے ہی دیتے ہیں اور ایسا ہی ایک مظاہرہ کیا ایک بلی نے جس نے سخت سردی میں بچے کو اپنی گود میں چھپا کر نہ صرف اس کی زندگی بچالی بلکہ اپنے دل میں انسان کے بچے کے لیے مامتا کا بھی ثبوت دیا۔

روس کے علاقے ان دنوں سخت سردی کی لپیٹ میں ہیں اور برف نے ملک کے اکثر علاقوں کو سفید چادر پہنا دی ہے اور روس کے ایک  شہر اوبننسک میں سخت سردی کے دوران سنگ دل والدین اپنے 3 ماہ کے بچے کوگتے کے ایک ڈبے میں ڈال کر فلیٹ کے ایک فلور پر چھوڑ کر چلے گئے جس کے کچھ ہی دیر بعد بچے نے زارو قطار رونا شروع کردیا تو اسی دوران قریب سے گزرتی ماشا کے نام سے پکارے جانے والی بلی نے بچے کے رونے کی آواز سنی جس پروہ ڈبے کی جانب لپکی اور ڈبے میں کود کر بچے کو ماں کی طرح بانہوں میں لے لیا۔

بلی کی جانب سے بچے کو گود میں لپیٹنے کے بعد اسے گرماہٹ ملنا شروع ہوگئی جس پر بچہ سوگیا اور بلی وہیں بیٹھی رہی جبکہ اس دوران ایک  دلچسپ بات یہ بھی ہوئی کہ بلی نے بچے کے والدین کو متوجہ کرنے کے لیے اونچی آواز سے چیخنا شروع کردیا اور بالآخر بلی کی یہ کوشش رنگ لے آئی اور ایک خاتون اس آواز سن کر یہ سوچتے ہوئے ادھر لپکی کہ بلی کو سردی لگ رہی ہے اور اسے اندر کسی گرم جگہ بٹھا دینا چاہئے لیکن جب وہ وہاں پہنچی تو اس منظر نے خاتون کو حیران کردیا۔

خاتون کا کہنا تھا کہ جب وہ ماشا نامی بلی کے قریب پہنچی تو اس نے دیکھا کہ ڈبے میں ایک بچہ سورہا ہے اور بلی اس کے ساتھ بیٹھی ہوئی ہے یہ دیکھ کر اس نے فوری طور پر پولیس کو فون کیا اور بچے کو اسپتال لے جایا گیا جبکہ بلی پریشان ہوکر کار کے پیچھے بھاگنے لگی کہ بچے کو کہاں لے جایا جا رہا ہے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ بچہ صاف ستھرے لباس میں تھا جبکہ اس کے پاس کافی مقدار میں دودھ اور کئی نیپیز موجود تھیں جس کا مطلب ہے کہ والدین جان بوجھ کر اسے یہاں چھوڑ کر گئے ہیں اس لیے والدین کی تلاش شروع کردی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…