منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

سلمان بٹ، ا صف اورعامر کا مستقبل روشن،الزام لگانے والا صحافی جھو ٹا نکلا

datetime 16  جنوری‬‮  2015 |

لندن۔۔۔۔۔ جعلی شیخ بن کر کھلاڑیوں کو پھنسانے والے صحافی کے ثبوت بھی فرضی نکلے۔پاکستانی فکسنگ اسکینڈل منظر عام پر لانے والے مظہر محمود کو لندن کی عدالت نے جھوٹا قرار دے دیا، انھیں اخبار سے پہلے ہی معطل کیا جا چکا، ان کی رپورٹ پر انگلینڈ میں گرفتار کیے جانے والے 13 فٹبالرز کو باعزت بری کردیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق مظہر محمود انگلینڈ کے معروف اخبار ’دی سن‘ کے لیے کام کرتے ہیں، وہ اسی کے ایک جریدے ’ورلڈ ا ف نیوز‘ کی جانب سے اسٹنگ ا پریشن کے دوران 2010 میں پاکستانی کرکٹ کا سب سے بڑا فکسنگ اسکینڈل منظر عام پر لائے تھے، اس میں 3 کرکٹرز سلمان بٹ، ا صف، عامر اور ان کے ایجنٹ مظہر مجید کو سزائیں ہوئیں۔مذکورہ صحافی کا طریقہ کار یہ تھا کہ وہ جعلی شیخ بن کر مختلف کھلاڑیوں اور دیگر معروف شخصیات سے مل کرانھیں کرپشن پر اکساتے۔ پھر اپنی اسٹوری کے ساتھ وہ شواہد پولیس کو دے دیتا تھا۔ ورلڈ ا ف دی نیوز جاسوسی کے الزامات پر جب بند ہوا تو مظہر محمود دی سن کے’ ا ن سنڈے‘ جریدے میں کام کرنے لگے۔ ان کی رپورٹ پر انگلینڈ میں دسمبر 2013 میں پہلے 6 فٹبالرز کو گرفتار کیا گیا اور پھر اپریل میں مزید7کو پکڑا گیا۔ اب کراؤن پراسیکیوشن سروس نے جعلی شیخ مظہر محمود کے ایک پاپ اسٹار تولیسا کونٹوسٹیولس کے بارے میں دیے گئے شواہد مسترد ہونے کے بعد فٹبالرز کو تمام الزامات سے بری کردیا۔صحافی نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ تلیسا گذشتہ سال جولائی میں کوکین کی ایک ڈیل میں مدد دینے کو تیار ہوگئی تھیں،ان کے ریپر دوست مائیکل کوبس کو بھی اس کیس میں گرفتار کیا گیا لیکن کورٹ میں ٹرائلز کے دوران مظہر کے شواہد ناصرف ناکافی قرار پائے،اس وجہ سے عدالت نے انھیں جھوٹا بھی قرار دے دیا جس کے بعد ’’سن اخبار‘‘ نے انھیں معطل کردیا ہے۔ اسی وجہ سے پراسیکیوشن نے مظہر کے فراہم کردہ شواہد کو ناقابل اعتبار قرار دیتے ہوئے تمام 13 فٹبالرز پر سے الزامات بھی واپس لے لیے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…