منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ناقص امپائرنگ کی بہتری کیلیے علیم ڈار سے مدد لینے پرغور

datetime 14  جنوری‬‮  2015 |

 ڈومیسٹک سرکٹ میں ناقص امپائرنگ نے پی سی بی کی آنکھیں کھول دیں ہیں اور معیار بہتربنانے کیلیے علیم ڈارکی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ میں امپائرنگ کا معیار تیزی سے گررہا ہے، اس حوالے سے مختلف ٹیموں کی جانب سے شدید اعتراض بھی کیا گیا ہے، پورٹ قاسم اتھارٹی کے کوچ اور سابق کپتان راشد لطیف نے بھی کافی تنقید کی ہے۔ بڑھتی ہوئی شکایات نے اب پی سی بی کی آنکھیں بھی کھول دی ہیں، اب انٹرنیشنل امپائر علیم ڈار کی خدمات حاصل کرنے کیلیے سنجیدگی سے غور شروع کردیا گیا ہے۔ چیئرمین شہریار خان کہتے ہیں کہ ہم ڈومیسٹک سسٹم میں امپائرنگ کے گرتے ہوئے معیار پر ہونے والی تنقید سے آگاہ ہیں، قائد اعظم ٹرافی کے دوران مبصر تعینات کیے گئے تھے جنھوں نے ہمیں امپائرنگ کے حوالے سے انتہائی منفی رپورٹ دی ہے۔

صورتحال حقیقت میں اچھی نہیں ہے، بورڈ ملک میں امپائرنگ کا معیار بہتر بنانے کیلیے علیم ڈار کی خدمات حاصل کرنا چاہتا ہے، میں جلد ہی ان سے ملاقات کروں گا اور ان معیار میں بہتری کے لیے کردار ادا کرنے کو کہوں گا، علیم ہمارے بہترین امپائر ہیں، مجھے امید ہے کہ ان کے تعاون سے یہاں پر امپائرنگ کا معیار بہترہوگا۔ شہریار خان نے کہا کہ سابق ٹیسٹ، انٹرنیشنل اور فرسٹ کلاس پلیئر کو چاہیے کہ وہ امپائرنگ کے شعبے میں آئیں ، ہم میچ فیس کے ساتھ امپائرز کودیگر سہولیات کی فراہمی بھی بہتر بنائیں گے۔یاد رہے کہ مختلف حلقوںکی جانب سے بورڈ آفیشلز پر بھی الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ امپائرز کے تقرر کے لیے اقرباپروری سے کام لیتے ہیں۔ یہ بات شہریار خان نے بھی تسلیم کی، ان کا کہنا تھا کہ بظاہر اس میں پسند نا پسند کا عمل دخل بھی دکھائی دیتا ہے لیکن میں خود اس چیز پر اب نظر رکھوں گا اور اس سلسلے کو ختم کروں گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…