منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ایئر ایشیا کے تباہ ہونے والے جہاز کے بلیک باکس کا سگنل موصول

datetime 9  جنوری‬‮  2015 |

جکارتہ۔۔۔۔۔ایئر ایشیا کا یہ جہاز 28 دسمبر کو انڈونیشیا کے دوسرے بڑے شہر سورابایا سے سنگاپور جا رہا تھا کہ خراب موسم کے دوران گر کر تباہ ہو گیا۔انڈونیشیا سے سنگاپور جانے والے ایئر ایشیا کے جہاز کے ملبے کو تلاش کرنے والے ریسکیو حکام کے مطابق انھیں بحیرہجاوا میں جہاز کے ممکنہ بلیک باکس کا سگنل موصول ہوا ہے۔اب تک ریسکیو ٹیموں نے 46 لاشیں سمندر سے برآمد کر لی ہیں۔ حکام کا اندازہ ہے کہ فیوزیلاڑ یعنی جہاز کا مرکزی حصہ جہاں مسافر بیٹھتے ہیں میں بیشتر مسافروں کی لاشیں ہیں۔ تاہم ابھی تک فیوزیلاڑ نہیں مل پایا۔انڈونیشیا کی مسلح افواج کے کمانڈر جنرل موایلڈوکو نے بی بی سی کو بتایا کہ خوطہ خوروں کی مدد سے سگنل کے مقام کی تلاش جاری ہے۔حکام کے مطابق سگنل اس مقام کے نزدیک سے موصول ہوا ہے جہاں سے جہاز کی دم ملی تھی جس کی وجہ سے یہ امکان ہے کہ بلیک باکس طیارے کے مرکزی حصے سے الگ ہو دوسری جگہ پر گر گیا ہو۔طیارے کے حادثے میں کوئی مسافر زندہ نہیں بچ سکا ہے
انڈونیشیا کی نیشنل ٹرانسپورٹ سیفٹی کمیٹی کے ایک اہلکار کے مطابق انھیں جہاز کا ملبہ تلاش کرنے والے اہلکاروں کی جانب سے سگنل کے موصول ہونی کی تصدیق ہوئی ہے اور ہمارے خیال میں یہ جہاز کا بلیک باکس ہی ہے اور خوطہ خوروں کو اس کی تصدیق کرنی ہے۔ بدقسمتی سے بلیک باکس طیارے کے دم سے الگ ہو گیا تھا اور اب خوطہ خوروں کو اس کی اصل جگہ کی نشاندہی کرنی ہے۔اس سے پہلے جمعرات کو جہاز کے ملبے کی تلاش کے سرچ اور ریسکیو مشن کے سربراہ بمبانگ سولیئستو کے سربراہ کا کہنا تھا کہ بحیرہ جاوا میں جہاز کا پچھلا حصہ مل گیا ہے لیکن اس میں سے بلیک باکس اور فلائیٹ ریکارڈ نہیں مل سکا تھا۔بلیک باکس کی مدد سے تفتیش کاروں کو اس جہاز کے تباہ ہونے کی وجہ معلوم ہو سکے گی۔ایئر ایشیا کا یہ جہاز 28 دسمبر کو انڈونیشیا کے دوسرے بڑے شہر سورابایا سے سنگاپور جا رہا تھا کہ خراب موسم کے دوران گر کر تباہ ہو گیا۔ جہاز پر 162 افراد سوار تھے۔اس وقت جہاز کے ملبے اور لاشوں کی تلاش میں مختلف ملکوں کے 30 جہاز حصہ لے رہے ہیں۔اس کے علاوہ چھ ہوائی جہاز اور 14 ہیلی کاپٹر بھی ان کارروائیوں میں شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…