بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

لاوارث جہاز بحفاظت بندرگاہ پہنچ گیا

datetime 3  جنوری‬‮  2015 |

کوریلیانو کلابرو۔۔۔۔۔ اٹلی کے کوسٹ گارڈز نے کہا ہے کہ وہ بحری جہاز اٹلی کی کوریلیانو کلابرو بندرگاہ پہنچ گیا ہے جس پر 360 تارکینِ وطن سوار تھے اور جسے اس کے عملے نے بییار و مددگار چھوڑ دیا تھا۔اس سے قبل ایک مسافر کی طرف سے وائرلیس پر ہنگامی پیغام بھیجے جانے کے بعد امدادی کارکن اس وقت ’عزالدین‘ نامی اس جہاز تک پہنچے جب بحیرہ روم میں ادھر ادھر تیر رہا تھا۔سیئرالیون کے پرچم تلے چلنے والا یہ جہاز اٹلی کی بندرگاہ کے جنوب مشرق میں متلاطم سمندر میں اس حالت میں ملا کہ اس کے اندر ایندھن ختم ہو گیا تھا۔اس سے قبل گذشتہ ہفتے ایک اور جہاز پر سے 796 تارکینِ وطن کو بازیاب کیا گیا تھا۔ اس جہاز کا عملہ بھی اسے چھوڑ کر چلا گیا تھا۔اطالوی کوسٹ گارڈ نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ عزالدین مقامی وقت کے مطابق 11 بجے بندرگاہ پہنچا۔کوریلیانو کلابرو کے کوسٹ گارڈ کمانڈر فرانسیسکو پیروٹی نے بی بی سی کو بتایا کہ تمام تارکینِ وطن کا تعلق شام سے ہے۔انھوں نے کہا کہ انھیں بس کے ذریعے اٹلی کے دوسرے حصوں تک لے جایا جا رہا ہے، اور یہ کہ تارکینِ وطن کی جسمانی حالت اچھی ہے۔اس سے قبل کوسٹ گارڈ کمانڈر فلیپو مارینی نے نامہ نگاروں کو بتایا تھا کہ عزالدین کو آئس لینڈ کا ایک بحری جہاز کھینچ کر لا رہا ہے۔مارینی نے کہا کہ عزالدین ترکی سے چلا تھا، حالانکہ اس سے قبل اطلاعات آئی تھیں کہ اس نے قبرص سے سفر کا آغاز کیا تھا۔عزالدین پر 450 تارکینِ وطن سوار تھے جن کا تعلق شام سے تھا
یورپی ادارے فرنکٹیس کی ترجمان ازابیلا کوپر نے بتایا کہ تارکینِ وطن سمگلروں کے ہتھے چڑھ گئے تھے جنھوں نے لیبیا سے آنے والے عام راستے کی بجائے ایک اور راستہ اختیار کیا تھا۔انھوں نے کہا: ’اب ہم تارکینِ وطن کا ایک نیا راستہ دیکھ رہے ہیں جہاں سمگلر پرانے مال بردار جہاز خرید لیتے ہیں، اور ترکی سے سفر کا آغاز کرتے ہیں۔’یہ راستہ لمبا ہیاور سمگلر اس راستے پر لیبیا کے مقابلے پر تین گنا زیادہ معاوضہ وصول کرتے ہیں۔‘ایک تارکِ وطن نے وائرلیس پر خطرے کا پیغام دیا تھا۔ اس نے اطالوی کوسٹ گارڈ سے کہا: ’ہم عملے کے بغیر ہیں، اور اٹلی کے ساحل کی جانب بڑھ رہے ہیں، جہاز چلانے والا کوئی نہیں۔‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…