جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

مولاناعبدلعزیز کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری، مگر کیوں؟ پڑھنے کیلئے کلک کریں

datetime 26  دسمبر‬‮  2014 |

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں قائم لال مسجد کے خطیب مولانا عبد العزیز کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے گئے ہیں۔

دھمکی آمیز بیانات دینے کی وجہ سے مولانا عبدالعزیز کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری اسلام آباد کی مقامی عدالت نے جاری کیے۔

مقدمے کی سماعت سول جج اسلام آباد ثاقب جواد نے کی۔

پولیس افسران عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ سول سوسائٹی کے اراکین نے مولانا عبدالعزیز کے خلاف قتل کی دھمکیاں دیے جانے کا مقدمہ درج کروایا ہے۔

پولیس حکام نے موقف اختیار کیا کہ لال مسجد کے خطیب کو گرفتار کرنے کی اجازت دی جائے۔

عدالت نے معاملہ سُننے کے بعد لال مسجد کے خطیب مولانا عبد العزیز کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔

یاد رہے کہ 16 دسمبر کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں طالبان کی دہشت گردی اور معصوم جانوں کی ہلاکتوں کے حوالے سے مولانا عبدالعزیز نے اپنے ایک متنازع بیان میں کہا تھا کہ وہ نہ تو اس واقعے کی مذمت کریں گے اور نہ انھیں ‘شہید’ کہیں گے۔

مولانا عبدالعزیز کی جانب سے ٹی وی پر دیئے گئے اس متنازع بیان پر سول سوسائٹی اور غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کے ارکان احتجاج کر رہے ہیں جبکہ لال مسجد کی انتظامیہ کی جانب سے اس پر وضاحتی بیان جاری کیا جا چکا ہے۔

لال مسجد کے خطیب کے خلاف احتجاج کرنے والوں نے تھانہ آبپارہ میں قتل کی دھمکیاں دیئے جانے کا مقدمہ درج کروایا تھا اور ان کی جانب سے مولانا عبدالعزیز کی گرفتاری کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔

ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کی جانب سے بھی لال مسجد کے خطیب کے خلاف کراچی کے تھانہ عزیز آباد میں متحدہ قومی موومنٹ نے ایف آئی آر درج کروائی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…