راولپنڈی۔۔۔۔ لاہور ہائی کورٹ نے فوجی عدالت کی جانب سے 5 قیدیوں کو دی گئی سزائے موت پر عمل درآمد کو معطل کردیا۔لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بنچ کے جج جسٹس ارشد تبسم نے سزائے موت پانیوالے قیدیوں سے متعلق متفرق درخواستوں کی سماعت کی، اس موقع پر کوٹ لکھپت جیل میں قید احسن عظیم، آصف ادریس، عمر ندیم، کامران اسلم اورعامر یوسف کے وکیل لائق خان سواتی نے موقف اختیار کیا کہ فوجی عدالت سول شہریوں کا کورٹ مارشل نہیں کرسکتی لیکن اس کے باوجود ان کے موکلان کو ملک کے قانون کے خلاف فوجی عدالت میں سزا دی گئی، اس کے علاوہ مقدمے کے دوران انہیں نہ تو وکیل کرنے کا حق دیا گیا اور نہ ہی کسی بھی قسم کی عدالتی دستاویزات فراہم کی گئیں۔ ملزمان کو اس بارے میں بھی کوئی علم نہیں کہ انہیں کن جرائم میں سزائے موت سنائی گئی ہے۔درخواست گزار کا موقف سننے کے بعد عدالت عالیہ نے سزائے موت کے تمام قیدیوں سے متعلق تفصیلات طلب کرتے 12 جنوری تک وفاق اور صوبائی حکومتوں سے جواب طلب کرلیا ہے۔ اس کے علاوہ کیس کی اگلی سماعت تک پانچوں ملزمان کی سزائے موت پرعمل درآمد بھی معطل کردیا گیا ہے۔واضح رہے کہ آرمی چیف نے پانچوں ملزمان کے ڈیتھ وارنٹ پر دستخط کردیئے تھے اور انہیں آج کسی بھی وقت کوٹ لکھپت جیل میں سزائے موت دی جانی تھی۔
5 قیدیوں کو دی گئی سزائے موت پر عمل درآمد معطل
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
مذہب کی جنگ(آخری حصہ)
-
عالمی مارکیٹ میں سونے اور چاندی کی قیمتو ں میں اضافہ
-
سونے کی قیمت میں تاریخ کی سب سے بڑی کمی کے بعد آج پھر بڑا اضافہ
-
پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تاریخی اضافے کا امکان
-
قاسم خان نے عمران خان کا پیغام شیئر کردیا
-
ایران نے جنگ روکنے کیلئے 6 سٹریٹجک شرائط پیش کردیں
-
ایران جنگ، خطے میں ہونیوالی اموات کی ہوشربا تفصیلات سامنے آگئیں
-
وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر ہائی اوکٹین پر لیوی بڑھانے کا نوٹیفکیشن جاری
-
پیٹرول مہنگا،پاکستان میں پلگ اِن ہائبرڈ اور رینج ایکسٹینڈڈ گاڑیاں مقبول ہونے لگیں











































