اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

امریکہ مسلح شخص نے دو پولیس اہلکاروں کو ہلاک کرنے کے بعد خودکشی کر لی

datetime 21  دسمبر‬‮  2014 |

نیویارک ۔۔۔۔۔ امریکہ کے شہر نیویارک میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ایک مسلح شخص نے دو پولیس اہلکاروں کو ہلاک کرنے کے بعد خودکشی کر لی ہے۔یہ واقعہ بروکلین میں پیش آیا ہے جب حملہ آور نے پولیس کی گاڑی میں بیٹھے دو اہلکاروں کوگولی ماری۔نیویارک پولیس کے کمشنر بل بریٹن کا کہنا ہے کہ ان پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کی وجہ ان کی ملازمت بنی۔انھوں نے اسے بہیمانہ قتل کا واقعہ قرار دیا ہے۔
پولیس اہلکاروں کو ہلاک کرنے کے بعد حملہ آور نزدیکی سب وے کی جانب بھاگا جہاں اس نے اپنے آپ کو گولی مار کر خودکشی کر لی۔حملہ آور کی شناخت 28 سالہ اسماعیل برنسلے کے طور پر ہوئی ہے۔
اس واقعے کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کا واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا ہے جب شہر کی پولیس کے رویے اور ملزمان سے نمٹنے کے طریقوں کی کڑی جانچ جاری ہے۔اہلکاروں پر جان لیوا حملہ کرنے سے قبل حملہ آور نے اپنی سابقہ گرل فرینڈ کو بھی گولی مار کر زخمی کیا تھا اور سوشل میڈیا پر پولیس مخالف پیغام بھی چھوڑا تھا۔نیویارک کے میئر بل ڈی بلاسیو کا کہنا ہے کہ یہ واضح طور پر قتل کا واقعہ ہے اور سارا شہر ان ہلاکتوں پر سوگوار ہے۔یہ نیویارک میں گذشتہ تین برس میں کسی پولیس اہلکار کی ہلاکت کا پہلا معاملہ ہے۔لیو وینجن اور رافیئل راموس نامی پولیس اہلکاروں کو سنیچر کی سہ پہر اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ گشت سے لوٹے تھے۔ حملے کے فوری بعد انھیں ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے۔پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور ایک سیاہ فام تھا جبکہ مرنے والے پولیس افسران ایشیائی اور ہسپانوی نسل کے تھے۔اس واقعے کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا
امریکہ کے اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر نے ان ہلاکتوں کو ’بربریت کی ناقابلِ بیان کارروائی‘ قرار دیا ہے۔نیویارک میں بی بی سی کی سمیرا حسین کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کا واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا ہے جب شہر کی پولیس کے رویے اور ملزمان سے نمٹنے کے طریقوں کی کڑی جانچ کی جا رہی ہے۔
رواں ماہ کے آغاز میں نیویارک میں ایک گرینڈ جیوری نے اپنے فیصلے میں پولیس کے افسران کو ایک سیاہ فام شخص ایرک گارنر کی ہلاکت کے الزام سے بری کر دیا تھا۔ان سفید فام افسران پر الزام تھا کہ انھوں نے سگریٹ فروخت کرنے کے الزام میں حراست میں لینے کی کوشش کے دوران گارنر کا گلا ایسے پکڑا کہ اس کا سانس بند ہوگیا تھا۔جیوری کے اس فیصلے کے خلاف نیویارک اور امریکہ کے دیگر شہروں میں مظاہرے ہوئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…