بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

ملالہ یوسف زئی نے اپنی آنے والی 'اہم' حکمت عملی کا انکشاف کردیا

datetime 11  دسمبر‬‮  2014 |

اوسلو: نوبل امن انعام حاصل کرنے والی ملالہ یوسف زئی نے کہا ہے کہ وہ دیکھ رہی ہیں کہ آئندہ 20 سال میں وہ پاکستان کی وزیر اعظم ہوں گی۔

اوسلو میں ناروے کی خاتون وزیر اعظم ارنا سولبرگ کے ساتھ پریس کانفرنس میں ملالہ یوسف زئی کا کہنا تھا کہ وہ اپنے وطن کی خدمت کرنااور اسے ترقی کے میدان میں آگے بڑھتا ہوا دیکھنا چاہتی ہوں ’کیونکہ میں ایک محب وطن پاکستانی ہوں اور یہی وجہ ہے کہ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ سیاست میں قدم رکھوں اور ایک دن آئے گا جب لوگ مجھے ووٹ دیں گے اور اکثریت حاصل کر کے میں پاکستان کی وزیراعظم بن جاؤں گی۔ ان کا  کہنا تھا کہ چونکہ پاکستان کے آئین کے مطابق 35 سال کی عمر میں ہی  وزیر اعظم بن سکتے ہیں اس لیے میرے پاس ابھی بہت وقت ہے۔‘

ایک سوال کے جواب میں 17 سالہ بہادر اور جواں ہمت ملالہ کا کہنا تھا کہ وہ سابق وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کی شخصیت سے بہت متاثر ہیں اور زندگی میں آگے بڑھنے کا جذبہ بھی ان ہی سے حاصل کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں خواتین پراتنی  پابندیاں ہوں کہ آگے بڑھنا دشوار ہوجائے لیکن  بے نظیر بھٹو ایک مثال ہیں کیوں کہ انہوں نے اپنی لگن اور بہادری سے یہ کرکے دکھایا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز ملالہ یوسف زئی کو ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں  ایک پروقار تقریب میں امن کے نوبل ایوارڈ سے نوازا گیا جب کہ تقریب کے منتظمین نے  ملالہ  کو بچیوں کی تعلیم کے لیے بے مثال جدوجہد کرنے پرشاندارالفاظ میں  خراج تحسین بھی پیش کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…