جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

جنوبی افریقا میں پولیس نے پاکستانیوں کی رہائی کیلئے رشوت طلب کر لی

datetime 11  دسمبر‬‮  2014 |

کراچی۔۔۔۔ جنوبی افریقا میں انسانی اسمگلروں کے چنگل سے30ایشیائی باشندوں کو پولیس نے اپنی حراست میں لے لیا،ان میں پندرہ پاکستانی اور پندرہ بنگلادیشی ہیں۔ انسانی اسمگلنگ کے الزام میں ایک پاکستانی اورایک سوئس شہری کو بھی گرفتار کرلیاگیا۔پولیس نے متاثرین کے خاندانوں سے دس لاکھ پاکستانی روپے کے عوض فی متاثرہ شخص کی رہائی کی پیش کش کردی۔’’ٹائمز ا ف سوئٹز لینڈ‘‘ کے مطابق 19 سالہ سوئس شہری سیابونگاسائملین اور پاکستانی شہری نذیر احمد احسن کو میلیلین کے علاقے سیگرفتار کیا گیا اور ان پر الزام ہے کہ انہوں نے30 ایشیائی باشندوں کی اسمگلنگ کی۔ ٹونگا پولیس کے ترجمان کے مطابق ان دونوں کے پاس سے 15 بنگلا دیشی شہری اور 15 پاکستانی شہری برا مد ہوئے جو انسانی اسمگلنگ کے متاثرین تھے۔مشتبہ افراد کو انسانی اسمگلنگ ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا اور جائے وقوعہ سے ملنے والی گاڑی کو بھی ضبط کرلیا گیا جس کے ذریعے متاثرین کو منتقل کیا جاتا تھا۔ان 30 افراد کو میلیلین کے قریب Buffelsfontein میں ایک تالا لگے خستہ حال گھر سے برا مد کیا گیا تیسرا مشتبہ شخص جوکہ مبینہ طور پر پاکستانی ہے وہ پولیس کے پہنچنے پر فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔پولیس کے مطابق ان 30 لوگوں کے ویزے جعلی تھے اوراس کے علاوہ 11 دیگر پاسپورٹ بھی اس گھر سے برا?مد کیے گئے۔ان 30 متاثرین کو Schoemensdal پولیس اسٹیشن لے جایا گیا۔ترجمان نے کہا کہ متاثرین کے خاندان انہیں تقریباً دس لاکھ پاکستانی روپے(80ہزار یورو)) ادا کرکے رہا کرا سکتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ان باشندوں کو اس گھر خوراک اور پانی کے بغیر رکھا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…