کابل۔۔۔۔افغانستان میں حکام کے مطابق ملک کے دارالحکومت کابل میں افغان فوجیوں کو لے جانی والی بس پر خودکش حملے میں چھ فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔حکام کے مطابق یہ حملہ جمعرات کی صبح رش کے اوقات میں ہوا۔ یہ گذشتہ ایک ہفتے سے زیادہ وقت میں کابل میں پہلا حملہ ہے۔خبر رساں ادارے اے پی نے کابل پولیس کے سربراہ کے ترجمان حشمت ستنکزئی کے حوالے سے بتایا کہ ’خودکش حملہ آور پیدل تھے۔‘افغان وزارتِ دفاع کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے پی کو بتایا کہ اس حملے میں پانچ فوجی ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے۔خیبر رساں ادارے اے ایف پی نے کابل پولیس کے کرائم برانچ کے سربراہ فرید افضل کے حوالے سے بتایا کہ کابل کے مضافاتی علاقے تنگی تاراخیل میں ہونے والے اس خودکش حملے میں چھ فوجی ہلاک ہوئے۔افغان طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔اے ایف پی کے مطابق طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے میڈیا کو جاری کردہ پیغام میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کی۔اس حملے کے ساتھ معمولی عرصے کے لیے خاموشی کے بعد طالبان نے حکومت مخالف مہم تیز کر دی ہے۔حالیہ ہفتوں میں شدت پسندوں نے کابل میں فوجی، سفارتی اور دیگر غیر ملکی اہداف کو نشانہ بنایا جس سے لگتا ہے کہ طالبان نے زیادہ سے زیادہ شہرت حاصل کرنے کے لیے اپنی حکمت عملی تبدیل کی ہے۔حالیہ ہفتوں میں شدت پسندوں نے کابل میں فوجی، سفارتی اور دیگر غیر ملکی اہداف کو نشانہ بنایا جس سے لگتا ہے کہ طالبان نے زیادہ سے زیادہ شہرت حاصل کرنے کے لیے اپنی حکمت عملی تبدیل کی ہے۔افغانستان میں بم دھماکے، فائرنگ اور خودکش حملے ہوتے رہے ہیں اور ان میں اکثر افغان طالبان ملوث رہے ہیں۔نومبر کے اواخر میں بھی برطانوی سفارت خانے کی گاڑی پر طالبان کی طرف سے کیے جانے والے خودکش حملے میں ایک برطانوی شہری سمیت پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ہلاک ہونے والا برطانوی سفارت خانے کی حفاظتی ٹیم کا رکن تھا جبکہ دھماکے میں زخمی ہونے والے 30 افراد میں بھی ایک برطانوی شہری شامل تھا۔حکام کا کہنا تھا کہ حملہ آور ایک کار میں سوار تھا اور دھماکے کے نتیجے میں سفارت خانے کی گاڑی الٹ گئی جبکہ آس پاس موجود کئی دیگر گاڑیاں تباہ ہوگئیں۔
ستمبر میں اقتدار میں آنے والے نئے صدر اشرف غنی نے دہائیوں تک جنگ سے متاثر ہونے والے اپنے ملک میں امن لانے کا عہد کیا ہے۔
نومبر کے وسط میں بھی کابل میں اہم خاتون رکنِ پارلیمان پر خودکش حملے میں تین عام شہری ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہوئے تھے جبکہ رکنِ پارلیمان کو معمولی چوٹیں آئی تھیں۔
افغان طالبان نے ملک میں ایک ایسے وقت میں حملے تیز کر دیے ہیں جب غیر ملکی افواج آئندہ مہینے افغانستان سے نکلنے کے لیے تیاریاں کر رہی ہیں۔
یکم جنوری سنہ 2015 افغانستان میں صرف 12 ہزار نیٹو فوج باقی رہ جانے کی توقع ہے جن کا کام افغان سکیورٹی فورسز کی تربیت و مشاورت کرنا ہو گا۔
امریکی سربراہی میں ایک اور سکیورٹی فورس طالبان کے خلاف کارروائیوں میں افغان سکیورٹی فورسز کی مدد کرے گی۔
کابل میں خودکش حملہ،چھ فوجی ہلاک، متعدد زخمی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
متحدہ عرب امارات نے 3 ممالک کیلیے نئے ویزوں کا اجرا روک دیا؛ سفری پابندیاں عائد
-
پیٹرول کی قیمت میں کمی کا اعلان
-
سستا پیٹرول سکیم میں ایک ساتھ 4000 روپے، موٹر سائیکل سواروں کے لیے بڑی خوشخبری
-
16 سالہ لڑکی سے گن پوائنٹ پر 8 سے 10 لڑکوں کی مبینہ اجتماعی زیادتی، ویڈیو بھی بنائی
-
دینی راستہ اختیار کرنے کے باوجود طلاق ہونے پر سارہ چوہدری کا ردعمل وائرل
-
موٹروےزیادتی کیس: ’’سزائے موت کے بعد کوئی نہیں کہے گا خاتون رات کو وہاں کیا لینے آئی‘‘
-
18سالہ گھریلوملازمہ اجتماعی زیادتی ، اسقاط حمل کےدوران ہلاکت کیس میں اہم پیشرفت، والد نےمعاملہ مشکو...
-
ایران اور روس کا 25 ارب ڈالر کا بڑا جوہری معاہدہ، دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی
-
تلوم اور تلوم سے آگے
-
ویرات کوہلی نے بھارت کیوں چھوڑا؟ ساتھی کھلاڑی کا انکشاف
-
آیت اللہ خامنہ ای پر حملے کے وقت ان کے دفتر میں موجود تھا: عباس عراقچی کا انکشاف
-
سوریا کمار یادیو کو کپتانی سے ہٹا کر ٹیم سے کیوں نکالا گیا؟ وجہ سامنے آگئی
-
آسٹریلیا بونڈی بیچ کا مسلمان ہیرو گرفتار؟ والد پر حملے کے الزام نے سب کو حیران کردیا
-
پاکستان مخالف سوال پر روسی صدر نے بھارتی صحافی کو لاجواب کردیا



















































