جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

شاہ رخ خان تو کروڑ پتی ہیں ہی مگر ان کے ہم شکل کے ساتھ ہو رہا ہے کیا؟ ملاحظہ فرمایئں

datetime 10  دسمبر‬‮  2014 |

ممبئی: کسی مشہور شخصیت کے ہم شکل ہونے کا کتنا فائدہ ہوتا ہے اس کا اندازہ تو صرف وہ ہم شکل ہی لگا سکتا ہے لیکن اگر کوئی ہم شکل  کروڑوں دلوں پر راج کرنے والے سپر اسٹار شاہ رخ خان جیسے بڑے اداکار جیسا ہو تو پھر سمجھو کہ اس کے تو وارے ہی نیارے ہو گئے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق بھارت کی ریاست مہاراشٹرا کے شہر ناگپور کا ایک شخص نہ صرف با لی ووڈ کے کنگ خان کا ہم شکل ہے بلکہ یہ اس کی کمائی کا ذریعہ بھی ہے۔ پرشانت والڈے کو پہلی نظر دیکھنے سے کوئی بھی شخص اس کے شاہ رخ خان ہونے کا دھوکا کھا سکتا ہے۔

پرشانت والڈے  کا کہنا تھا کہ  میں نے 4 ماہ میں شاہ رخ خان کی طرح چلنا، سونا، رونا اور ہنسنا سیکھا، مجھے خوابوں میں بھی شاہ رخ خان ہی نظر آنے لگے، پھر میں نے اپنی اداکاری کو سنجیدگی سے لے کر قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا اور آج میں اس مقام پر ہوں کہ مجھے اشتہارات میں کنگ خان کی ڈمی کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور شوٹ فائنل ہو جانے پر اصلی شاہ رخ خان کو بلا لیا جاتا ہے، جب کسی لمبی شوٹ کی ضرورت ہوتی ہے جس میں شاہ رخ خان کا چہرہ صاف دکھانا ضروری نہ ہو تو مجھے بلا لیا جاتا ہے، اس کے علاوہ جب شاہ رخ کے جسم کا پچھلا حصہ دکھانا اور وہ دستیاب نہ ہوں تو اس وقت بھی میری خدمات لی جاتی ہیں، شاہ رخ خان کا ہم شکل ہونے کی وجہ سے یومیہ 25 ہزار اور اگر پورا مہینہ کام کروں تو 7 لاکھ روپے تک کما لیتا ہوں، کبھی کبھی بیرون ملک شوز کے ذریعے بھی پیسے کما لیتا ہوں۔

شاہ رخ خان کے ہم شکل کا کہنا تھا کہ میں نے ایک اشتہار میں شاہ رخ کی طرح اداکاری کی جس کے بعد سب کو پتہ چل گیا کہ شاہ رخ کا ایک ہم شکل مارکیٹ میں موجود ہے جو اچھی اداکاری بھی کر لیتا ہے، وہ اشتہار بہت مقبول ہوا اور پھر ہدایت کارہ فرح خان نے  فلم ’اوم شانتی اوم‘ کے لئے میرا آڈیشن لیا اور مجھے منتخب کر لیا، اسی فلم کی شوٹنگ کے دوران ہی میری پہلی ملاقات شاہ رخ خان سے ہوئی۔ شاہ رخ جب بھی آتے ہیں تو پوچھتے ہیں کہ پرشانت نے کیسی اداری کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…