جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

یمن میں امریکی صحافی بازیابی کی کارروائی کے دوران مارا گیا

datetime 6  دسمبر‬‮  2014 |

صنعا۔۔۔۔روس اور یمن کے حکام کا کہنا ہے کہ یمن میں القاعدہ کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے ایک امریکی صحافی بازیابی کروانے کے لیے کی گئی کارروائی میں ہلاک ہوگئے ہیں۔ایک امریکی اہلکار نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ لیوک سومرز کو شدت پسندوں نے اس وقت گولی مار دی جب ان کے ٹھکانے پر امریکی فورسز نے حملہ کیا۔صحافی کی بہن لوسی سومرز نے خبر رساں ادارے ایسو سی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ایف بی آئی نے انہیں ہلاک سے متعلق مطلع کر دیا ہے۔امریکی وزیرِ دفاع چک ہیگل نے بھی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے اس کہ اس دوران ایک اور یرغمال شخص جو کہ امریکی نہیں ہے ہلاک ہوا ہے۔یمن کی وزراتِ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ یمن کے جنوبی صوبے شبوا میں سنیچر کو ایک بڑی کارروائی کی گئی۔امریکی صحافی لیوک سومرز کو یمن میں سنہ 2013 میں اغوا کیا گیا تھا اور ان کی ایک ویڈیو منظرِ عام پر آئی تھی جس میں وہ مدد کی اپیل کر رہے تھے۔33 سالہ لیوک ایک مقامی خبر رساں ادارے کے ساتھ بطور صحافی اور فوٹو گرافر کام کر رہے تھے اور ان کی خبریں بی بی سی نیوز ویب سائٹ سمیت بین الاقوامی اداروں میں بھی شائع ہوتی تھیں۔ انھیں یمن کے دارالحکومت صنا کے ایک بازار سے اغوا کیا گیا تھا اور بعد ازاں انھیں القاعدہ کے ہاتھ فروخت کر دیا گیا۔اسی علاقے میں ایک امریکی ڈرون حملے میں القاعدہ کے کم سے کم نو مشتبہ شدت پسند ہلاک ہوئے۔سومرز کی ایک ویڈیو جاری کی گئی تھی جس میں مطالبات پورا نہ ہونے کی صورت میں انھیں مار دینے کی دھمکی دی گئی تھی۔پینٹا گون نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ گذشتہ ماہ بھی سومرز کی بازیابی کی ایک کوشش ناکام ہو گئی تھی۔ان کے خاندان نے بھی القاعدہ سے ایک ویڈیو اپیل میں رحم کرنے اور ان کی رہائی کی اپیل کی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…