بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

مولانا خالد محمود سومرو کے قتل کے خلاف مختلف شہروں میں ہڑتال،مظاہرے

datetime 30  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

کراچی۔۔۔۔۔مولانا خالد محمود سومرو کے قتل کے خلاف جمیعت علمائے اسلام (ف) کی اپیل پر ملک کے مختلف شہروں میں ہڑتال کی جارہی ہے جبکہ اہم شاہراہوں کو ٹریفک کی آمد و رفت کے لئے بند کردیا گیا ہے۔گزشتہ روز سکھر میں نماز فجر کے بعد سابق سینیٹر مولانا خالد محمود سومرو کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کیا جارہا ہے۔ کراچی میں مشتعل افراد نے سپر ہائی وے، شیر شاہ چوک، پراچہ چوک اور ماڑی پور میں سڑکوں کو بلاک کردیا جبکہ آر سی ڈی روڈ پر گاڑیوں پر پتھراؤ بھی کیا گیا جس کے نتیجے میں سندھ اور بلوچستان کے درمیان ٹریفک معطل ہوگئی۔ اس کے علاوہ سکھر، اوباڑو، ڈہرکی، گھوٹکی، میرپورماتھیلو، کنڈیارو، پڈعیدن، محراب پور، تھاروشاہ، بھریاروڈ، نوشہرو فیروز،جیکب آباد، پنو عاقل، لاڑکانہ، بدین،گولارچی، تلہار،ماتلی اور ٹنڈو باگو میں کاروباری مراکز مکمل طور پر بند ہیں۔بلوچستان کے مختلف شہروں کی فضا بھی خالد محمود سومرو کے قتل پر سوگوار ہے۔ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ، حب، خضدار، اوتھل، ڈہرہ مراد جمالی، چمن اور قلعہ سیف اللہ سمیت مختلف شہروں میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جارہی ہے۔ کوئٹہ چمن شاہراہ بند ہونے سے نیٹوسپلائی، افغان ٹرانزٹ ٹریڈ سمیت ہرقسم کی تجارتی سرگرمیاں معطل ہوگئی ہے۔ اس کے علاوہ جیکب آباد میں جے یو آئی (ف) کے کارکنوں نے سندھ بلوچستان شاہراہ بلاک کرکے احتجاج کیا۔ قلات میں بھی قومی شاہراہ کو رکاوٹیں کھڑی کرکے بلاک کردیا۔
خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقاجات میں بھی جے یو آئی (ف) کی اپیل پر امن ہڑتال اور احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ پشاور، مردان، نوشہرہ، صوابی، ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں، ٹانک، کوہاٹ اور ہنگو میں جے یو آئی (ف) کے کارکنوں کی جانب سے احتجاج جاری ہے اور مختلف شاہراہوں پر مظاہرے کئے جارہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…