منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

سابق افغان صدر حامد کرزئی نے نیٹو کو پاکستان پر حملے کا مشورہ دے ڈالا۔ ایسا کیوں ؟

datetime 21  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

نئی دلی: افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی صدرات سے مستعفی ہونے کے بعد بھی پاکستان کے خلاف زہراگلنے سے باز نہ آئے اور  اس بار ان کہنا ہے کہ  القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کا  پاکستان میں پایا جانا اس بات کا واضح  ثبوت ہے کہ ہم پر دہشت گردی کے خلاف جنگ غلط مسلط کی گئی۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق نئی دلی میں  کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حامد کرزئی کا کہنا تھا کہ اسامہ بن لادن کی پاکستان میں ہلاکت ظاہر کرتی ہے کہ امریکا، نیٹو اور اس کے اتحادی ممالک کا افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کا فیصلہ غلط تھا، دہشت گردی کے خلاف جنگ افغان سرزمین کے بجائے پاکستان میں شروع کی جانی چاہئے تھی اور اس حوالے سے میرا  شروع سے ہی اصولی موقف رہا ہے۔  ان کا کہنا تھا کہ میں امریکا کے خلاف کھڑا ہوا کیونکہ میں افغانستان کے حوالے سے ان کے رویے میں بہتری چاہتا تھا۔

پاکستان کے سابق صدر جنرل(ر) پرویز مشرف کے  افغانستان میں ’’پراکسی وار‘‘ کے حوالے سے حامد کرزئی کا کہنا تھا کہ افغانستان کبھی بھی اس بات کی اجازت نہیں دے گا کہ امریکی فورسز کے جانے کے بعد اس کی سرزمین  کو میدان جنگ بنا کر پاکستان اور بھارت اپنے مفادات کے لئے استعمال کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت افغانستان میں ہمارے بچوں کو تعلیم یافتہ بنانے اور ڈیم تعمیر کرنے کے لئے موجود ہے نا کہ پاکستان کے خلاف ’پراکسی  جنگ‘ لڑنے کے لئے لہذا پرویز مشرف کو اس حوالے سے فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں۔

واضح رہے کہ امریکا نے نائن الیون کے واقعے کو جواز بنا کر 2001 میں  افغانستان پر حملہ کیا اور  10 سالہ جنگ کے بعد مئی 2011 میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو امریکی فورسز نے ایک آپریشن کے بعد پاکستان کے علاقے ایبٹ آباد میں ہلاک کردیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…