منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

گیس کے نرخوں میں اوسطًا30 فیصد اضافہ کی منظوری

datetime 21  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

اسلام آباد۔۔۔۔ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے اوگرا کی پالیسی گائیڈلائنز کی منظوری دیدی جن کے تحت صارفین سے 69 ارب روپے وصولی کے لیے گیس کے نرخوں میں اوسطً 30 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ای سی سی کے ایک اجلاس کی صدارت کی جس کے دوران زرعی صارفین کی سبسڈی جاری رکھنے کی بھی منظوری دی گئی جنہیں جون 2015 تک 10.35 روپے فی یونٹ کے نرخوں پر بجلی فراہم کی جائے گی۔باخبر ذرائع نے بتایا کہ وزارت پیٹرولیم کو اس حوالے سے ہدایات جاری کردی گئی ہیں تاکہ یکم جنوری سے نرخوں پر عمل درآمد کروایا جاسکے۔انہوں نے بتایا امن و امان کے مسئلے کے باعث ان گائیڈلائنز کے ذریعے گیس کمپنیاں چوری ہونے والی گیس کی رقم ایماندار صارفین سے وصول کرسکیں گی۔گائیڈ لائنز کے ذریعے سوئی ناردرن گیس پائپ لائن کو 18 ارب روپے کا فائدہ ہوگا جسے پانچ فیصد نرخوں میں اضافے کی ضرورت ہے جبکہ سوئی سدرن گیس پائپ لائن کو نضبتاً کم فائدہ پہنچے گا۔صارفین سے یہ رقم مالی سال 2012۔13 اور 2013۔14 کے لیے وصول کی جائے گی اور پھر اسے مستقل کردیا جائے گا۔اس کے علاوہ صارفین سے معمول کی آمدنی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے مزید 50 ارب روپے وصول کیے جائیں گے جس میں سے سوئی نادرن کو 33 ارب جبکہ سوئی سدری کو 17 ارب روپے دیے جائیں گے۔ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر وزارت پیٹرولیم کو پہلے دو زمرہ جات کو اس اضافے سے مستثنٰی قرار دیے جانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس طرح فرٹیلائزر پلانٹس کے لیے بھی گیس کی قیمتیں تبدیل نہیں ہوں گی۔اس کا مطلب یہ ہے کہ زیادہ گیس استعمال کرنے والوں پر 10 سے 15 فیصد اضافی بوجھ ڈالا جائے گا جبکہ دیگر کیٹیگریز کے لیے 24 فیصد اضافہ ہوگا۔اک افسر نے بتایا کہ حکومت نے اس سے قبل یکم جولائی سے گیس کی قیمتوں میں 14 فیصد اضافے پر غور کیا تھا تاہم اس فیصلے میں تاخیر کے باعث اب اوسطاً 24 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔

ای سی پی کے ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پالیسی گائیڈلائن اوگرا آرڈینینس 2002 کے تحت منظور کی گئی ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…