منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

افغانستان پاکستان اور ہندوستان کو ’پراکسی وار‘ کی اجازت نہیں دے گا، کرزئی

datetime 20  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

نئی دہلی۔۔۔۔۔سابق افغان صدر حامد کرزئی نے بدھ کے روز کہا ہے کہ امریکی اور نیٹو فوج کے انخلاء کے بعد افغانستان پاکستان اور ہندوستان کے درمیان ’پراکسی وار‘ کے لیے خود کو کو میدان جنگ نہیں بننے دے گا۔نئی دہلی میں ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے حال ہی میں سابق پاکستانی صدر پرویز مشرف کے دعوؤں کو برہمی کے ساتھ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات ’نقصان دہ‘ ثابت ہوسکتے ہیں۔
’ظاہر ہے افغانستان پاکستان اور ہندوستان کے درمیان پراکسی وار کی اجازت نہیں دے گا، مجھے یقین ہے ہندوستان بھی ایسا نہیں چاہے گا ‘۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کو ایک انٹرویو کے دوران مشرف کا کہنا تھا کہ ‘انڈیا افغانستان کے کچھ نسلی عناصر کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے، تو پاکستان بھی وہاں اپنے نسلی عناصر استعمال کرے گا اور وہ یقیناً پشتون ہوں گے’۔نیوکلیئر ہتھیاروں سے لیس ہمسایوں ہندوستان اور پاکستان ایک دوسرے پر ’پراکسی فورسز‘ استعمال کرکے افغانستان میں اثر و رسوخ بڑھانے کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔تاہم کرزئی جو اسلام آباد پر کابل حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں، نے کہا ہے کہ پشتونوں کو آلے کے طور پر استعمال کرنے کا بیان افغانستان کی سب سے بڑے نسلی گروہ کے لیے ’تکلیف دہ‘ تھا۔کرزئی نے کہا:’یہ ریمارکس انتہائی افسوسناک تھے۔ افغانستان کی تاریخ پانچ ہزار سال پرانی ہے اور یہ کہنا کہ پشتونوں کا ایک آلے کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے یہ نہ صرف پشتونوں کے لیے بلکہ پورے افغانستان کے لیے ہتک آمیز ہے۔‘پاکستان ان تین ممالک میں سے ایک تھا جس نے بنیادی طور پر پشتون طالبان کی حکومت کو تسلیم کیا تھا تاہم 2001 میں امریکی حملے کے بعد اس کا تختہ الٹ گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…