منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

افغانستان میں امریکی ڈرون حملے،فورسز کا ا پریشن ، 2 کمانڈروں سمیت95 طالبان ہلاک

datetime 20  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

کابل۔۔۔۔ افغانستان میں امریکی ڈرون حملے اورسیکیورٹی فورسز کے ا پریشن میں 2 کمانڈروں سمیت95 طالبان ہلاک اور70زخمی ہوگئے جبکہ 13کو گرفتار کرلیا گیا، صوبہ زابل میں سیکیورٹی اہلکاروں نے خودکش حملے کی کوشش ناکام بنادی۔مشرقی صوبہ کنٹر میں امریکی ڈرون حملے میں4عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔ صوبائی پولیس چیف عبدالحبیب سیدخیل نے بتایاکہ ڈرون حملہ ضلع غازی ابادی میں کیا گیا جس میں 2 کمانڈروں سمیت 4جنگجومارے گئے۔ دوسری جانب افغان فورسز نے اپریشن کے دوران91 جنگجوؤں کو ہلاک کرنیکا دعویٰ کیا ہے۔وزارت داخلہ کے مطابق پولیس نے فوج اورانٹیلی جنس کیساتھ ملکرصوبہ کنٹر، ننگرہار، پروان، تخار، قندھار، ارزگان، غزنی، خوست، پکتیکا اور ہلمند میں انسداد دہشتگردی اپریشن کیا جس دوران 70 جنگجو زخمی بھی ہوئے جبکہ 13 کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ مختلف اقسام کے ہتھیار اور بارودی مواد بھی قبضے میں لیا گیا۔صوبہ زابل میں فورسز نے پولیس ہیڈکواٹر پر خودکش حملے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے حملہ اورکوگولی مارکر ہلاک کر دیا۔ خودکش حملہ اورضلع شنکائی میں پولیس ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنانا چاہتا تھا۔دریں اثنا جرمن وزارت دفاع نے کہا ہے کہ بین الاقوامی افواج کے انخلا کے بعد جرمنی اور اٹلی کے تقریباً 1350 فوجی افغانستان میں تعینات رہ سکتے ہیں۔
جرمن وزارت دفاع کے مطابق یہ فوجی مقامی دستوں کی تریبت کے لیے وہاں موجود رہیں گے۔ جن میں جرمنی کے 850 جبکہ اٹلی کے 500 فوجی شامل ہوں گے۔ بیان میں مزید بتایا گیا کہ فوجیوں کی تعداد میں بڑھانے کا فیصلہ اضافی سوچ بچار کے بعد کیا گیا ہے۔ افغانستان میں نیٹو کے تربیتی اور مشاورتی مشن کو تقریباً 12 ہزار اہلکاروں کی ضرورت ہے۔ ان میں 8 ہزار فوجی امریکی حکومت مہیا کرے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…