منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

سندھ میں ایم کیو ایم سے اتحاد کی ضرورت پہلے تھی اورنہ آئندہ ہوگی

datetime 23  اکتوبر‬‮  2014 |

 پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت میں اتحاد کی ضرورت نہیں تھی صرف جمہوریت کی خاطر ایم کیو ایم کے ساتھ رہے اور 2018 میں بھی ہمیں سندھ میں ایم کیو ایم کی حمایت کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

لاڑکانہ میں نصرت بھٹو کی تیسری برسی کے موقع پر بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ جمہوریت کے لئے ہر سیاسی جماعت سے بات کرنے کو تیار ہیں لیکن کسی کے دباؤ میں نہیں آئیں گے، سندھ میں پیپلزپارٹی کو کسی کے ساتھ اتحاد کی ضرورت نہیں اور 2018 میں بھی پیپلزپارٹی کو سندھ میں حکومت بنانے کے لئے ایم کیو ایم کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ انہوں نے حکمران جماعت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہم لانگ مارچ کرتے تو شیر بلی بن کر بھاگ جاتا مگر ہم مضبوط اور محفوظ پاکستان چاہتے ہیں جس کے لئے عوام ہماری طاقت ہیں۔

چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ ہم بھی طاقت کا استعمال کرسکتے ہیں لیکن اقتدار کے بھوکے نہیں، جمہوریت کو مضبوط کرنے کیلیے ہر سیاسی جماعت سے بات کریں گے لیکن کسی کا دباؤ ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو نے ایم آر ڈی کی تحریک چلاکر جمہوریت کومضبوط اورآمریت کو کمزورکیا جبکہ ماضی میں تخت شریف نے آصف زرداری کو 12 سال تک جیل میں رکھا لیکن انہوں نے گردنیں کاٹنے والوں کو اپنے گلے سے لگالیا، شہید بی بی کا آصف اور ان کا بیٹا جمہوریت کو مستحکم کرنے کے لیے کوششیں کرتا رہے گا۔

دوسری جانب بلاول بھٹو زرداری نے غیرملکی خبررساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ بھارت خطے میں امن نہیں چاہتا اس لئے پاکستان پر الزام تراشیاں کرتا رہتا ہے اور مسلسل پاکستان کے امن عمل کو سبوتاژ کر رہا ہے، پاکستانی اور بھارتی نوجوان مل کر خطے میں امن قائم کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…