نیویارک(این این آئی)شوبز اور فیشن کی دنیا میں خواتین کو نظر انداز کرنا کوئی نئی بات نہیں، ہولی وڈ سے لے کر پاکستان فلم انڈسٹری اور افریقی فلم انڈسٹری سے لے کر عرب فلم انڈسٹری تک خواتین شکایتیں کرتی نظر آتی ہیں۔ہدایت کاراؤں، اداکاراؤں، لکھاریوں اورشوبز کے دیگر شعبہ جات میں خدمات سر انجام دینے والی خواتین کو نظر انداز کرنے پر جہاں ہولی وڈ جیسی فلم انڈسٹری میں خواتین آواز اٹھاتی نظر آتی ہیں۔
وہیں خواتین افریقی فلم انڈسٹری میں بھی اپنے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک پر بولتی دکھائی دیں۔افریقی ملک برکینا فاسو میں ہونے والے افریقہ کے بڑے فلم فیسٹیول ’دی پان افریقن فلم اینڈ ٹیلی وژن فیسٹیول آف واگادوگو‘ (فیسپاکو) کی 50 ویں تقریب کے دوران خواتین اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر بات کرتی دکھائی دیں۔خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق فیسپاکو کی سالانہ تقریب یکم مارچ کو منعقد ہوئی جس میں افریقہ بھر سے 20 فلموں کو اعلیٰ ایوارڈ کے لیے نامزد گیا کیا تھا۔جن فلموں کو اعلیٰ ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا تھا، ان میں خواتین ہدایت کاروں کی بھی 4 فلمیں شامل تھیں، تاہم وہ ایوارڈ جیتنے میں ناکام رہیں۔یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ افریقہ کے معتبر ترین فلم فیسٹیول میں خواتین ہدایت کاروں کی فلمیں اعلیٰ ایوارڈ جیتنے میں ناکام رہی ہوں، اس سے قبل بھی گزشتہ 49 سال سے خواتین کی کوئی بھی فلم یہ ایوارڈ حاصل نہیں کر پائی۔رپورٹ کے مطابق فیسپاکو میں گزشتہ نصف صدی سے کسی بھی خاتون فلم ساز کی فلم کو اعلیٰ ایوارڈ نہ دیے جانے پر پہلی بار خواتین فلم ساز اور اداکارائیں کھل کر بات کرتی دکھائی دیں۔خواتین کو نظر انداز کیے جانے پر جنوبی افریقی اداکارہ 41 سالہ شلیلے شبالالا نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افریقہ کے سب سے بڑے فلم فیسٹیول میں خواتین کہاں ہیں؟انہوں نے سوال اٹھایا کہ گزشتہ 50 سال میں کوئی بھی ایسی خاتون نہیں ہیں جنہوں نے کوئی اچھی فلم دی ہو اور اسے فیسپاکو ایوارڈ دیا جائے؟



















































