جمعہ‬‮ ، 17 جولائی‬‮ 2026 

نصف صدی سے خواتین کو نظر انداز کرنے پر افریقی فلم فیسٹیول میں ہنگامہ

datetime 3  مارچ‬‮  2019 |

نیویارک(این این آئی)شوبز اور فیشن کی دنیا میں خواتین کو نظر انداز کرنا کوئی نئی بات نہیں، ہولی وڈ سے لے کر پاکستان فلم انڈسٹری اور افریقی فلم انڈسٹری سے لے کر عرب فلم انڈسٹری تک خواتین شکایتیں کرتی نظر آتی ہیں۔ہدایت کاراؤں، اداکاراؤں، لکھاریوں اورشوبز کے دیگر شعبہ جات میں خدمات سر انجام دینے والی خواتین کو نظر انداز کرنے پر جہاں ہولی وڈ جیسی فلم انڈسٹری میں خواتین آواز اٹھاتی نظر آتی ہیں۔

وہیں خواتین افریقی فلم انڈسٹری میں بھی اپنے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک پر بولتی دکھائی دیں۔افریقی ملک برکینا فاسو میں ہونے والے افریقہ کے بڑے فلم فیسٹیول ’دی پان افریقن فلم اینڈ ٹیلی وژن فیسٹیول آف واگادوگو‘ (فیسپاکو) کی 50 ویں تقریب کے دوران خواتین اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر بات کرتی دکھائی دیں۔خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق فیسپاکو کی سالانہ تقریب یکم مارچ کو منعقد ہوئی جس میں افریقہ بھر سے 20 فلموں کو اعلیٰ ایوارڈ کے لیے نامزد گیا کیا تھا۔جن فلموں کو اعلیٰ ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا تھا، ان میں خواتین ہدایت کاروں کی بھی 4 فلمیں شامل تھیں، تاہم وہ ایوارڈ جیتنے میں ناکام رہیں۔یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ افریقہ کے معتبر ترین فلم فیسٹیول میں خواتین ہدایت کاروں کی فلمیں اعلیٰ ایوارڈ جیتنے میں ناکام رہی ہوں، اس سے قبل بھی گزشتہ 49 سال سے خواتین کی کوئی بھی فلم یہ ایوارڈ حاصل نہیں کر پائی۔رپورٹ کے مطابق فیسپاکو میں گزشتہ نصف صدی سے کسی بھی خاتون فلم ساز کی فلم کو اعلیٰ ایوارڈ نہ دیے جانے پر پہلی بار خواتین فلم ساز اور اداکارائیں کھل کر بات کرتی دکھائی دیں۔خواتین کو نظر انداز کیے جانے پر جنوبی افریقی اداکارہ 41 سالہ شلیلے شبالالا نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افریقہ کے سب سے بڑے فلم فیسٹیول میں خواتین کہاں ہیں؟انہوں نے سوال اٹھایا کہ گزشتہ 50 سال میں کوئی بھی ایسی خاتون نہیں ہیں جنہوں نے کوئی اچھی فلم دی ہو اور اسے فیسپاکو ایوارڈ دیا جائے؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)


سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…