ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

سیما کراچی میں ہندو دکانداروں سے سوداسلف خریدتی تھی

datetime 24  جولائی  2023 |

کراچی(این این آئی)پب جی کے ذریعے بھارتی نوجوان سے دوستی اور محبت کے بعد پاکستان چھوڑنے والی سیما حیدر رند جاکھرانی کے بارے میں اس کے پاکستانی محلے داروں نے نئے انکشافات کئے ہیں۔جیکب آباد سے تعلق رکھنے والی سیما کراچی میں گلستان جوہر کے علاقے دھنی بخش گوٹھ میں 2014 سے مقیم تھی۔ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ سیما حیدر نے دھنی بخش گوٹھ میں ایک مکان 15 لاکھ روپے میں خریدا تھا لیکن بھارت جانے کے لیے اس نے یہ مکان 12 لاکھ روپے میں بیچ دیا۔ سیما نے اس میں سے بھی 10 لاکھ وصول کیے اور باقی دو لاکھ روپے لیے بغیرملک چھوڑ گئی۔

مکان کی خریداری کے لیے سیما کو رقم اس کے شوہر غلام حیدر نے دی تھی جو سعودی عرب میں مقیم ہے۔ مکان خریدنے کے بعد بھی وہ آخری وقت تک کرائے کے اسی گھر میں مقیم رہی جہاں وہ پہلے سے رہ رہی تھی اور آخر میں مکان فروخت کرکے چلی گئی۔دھنی بخش گوٹھ میں دکانداروں نے بتایاکہ سیما ہمیشہ باقاعدگی سے نقد ادائیگیاں کرتی تھیں اور اس نے کبھی کوئی ادھار نہیں چھوڑا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ سیما یہاں پر سودا سلف ایک ہندو دکاندار لجپت رائے سے خریدیتی تھی۔ تاہم لجپت رائے نے بتایاکہ سیما نے کبھی ہندو مذہب میں دلچسپی ظاہر نہیں کی۔

دھنی گوٹھ میں ہی ارشد کمیونیکشن نامی دکان پر ارشد سومرو نے بتایا کہ سیما حیدر اتنا زیادہ پب جی کھیلتی تھی کہ 420 روپے والا انٹرنیٹ پیکیج تین چار دن میں ختم کردیتی تھی۔دکاندار کے مطابق بعض اوقات سیما کے ساتھ اس کی ایک دوست بھی ہوتی تھی جو نقاب میں ہوتی تھی جب کہ سیما نقاب نہیں لیتی تھی۔ارشد سومرو کے مطابق اس کی سیما سے بات چیت بھی ہوتی تھی اور اس دوران سیما نے کبھی ایسا کوئی اشارہ نہیں دیا کہ وہ پاکستان چھوڑنے والی ہے۔بھارت میں ہندی اور انگریزی میں سہولت سے بات کرنے والی سیما دھنی بخش گوٹھ میں دکانداروں سے سندھی میں بات کرتی تھی۔

علاقے کے لوگوں نے بتایاکہ سیما کے اہلخانہ اچھے اور خاندانی لوگ ہیں۔ سیما کا تعلق رند خاندان سے ہے جب کہ اس کا شوہر غلام حیدر جاکھرانی ہے۔مقامی افراد کے خیال میں سیما کے معاملات سے اس کے گھر کے افراد بھی بے خبر تھے، گھر کے اخراجات کے لیے رقم شوہر فراہم کرتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر سیما معافی مانگ کر واپس آجائے تو اسے قبول کرلینا چاہیے۔دھنی بخش گوٹھ کے مکینوں کے مطابق اس بات میں کوئی سچائی نہیں ہوسکتی کہ سیما کوئی ایجنٹ یا جاسوس تھی، وہ کم پڑھی لکھی خاتون ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…