اسلا م آباد (این این آئی) وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے بتایا ہے کہ وفاقی کابینہ اور وزیراعظم نے فیصلہ کیا ہے کہ اوگرا عالمی منڈی کو مدنظر رکھ کر روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کر کے ویب سائٹ پر لگائے گی،
روزانہ کی بنیاد اتار چڑھا ئو کا عوام کو منتقل کیا جائے گا ، وفاق نے پٹرولیم قیمتوں میں سبسڈی کیلئے 130 ارب ڈالر خرچ کئے ،پٹرولیم قیمتوں پر سبسڈی کا پروگرام آج بھی جاری ہے۔جمعہ کو وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ کے ہمراہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پہلے جنگ بندی اور پھر مستقل امن کے لئے بھرپور کوششیں کیں تاہم موجودہ صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، بین الاقوامی منڈی میں ڈیزل کاپلیٹس ریٹ تقریبا 110ڈالر سے بڑھ کر 140ڈالر جبکہ پٹرول کا پلیٹس ریٹ تقریبا 89ڈالر سے بڑھ کر تقریبا 100ڈالر تک پہنچ چکا ہے جس کے باعث توانائی کی قیمتیں دوبارہ بڑھنا شروع ہو گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کی مشکلات سے پوری طرح آگاہ ہے اور وزیراعظم شہبازشریف کی ہدایت پر وفاقی حکومت نے تقریبا 130ارب روپے کے وسائل بروئے کار لا کر عوام کو سہارا دینے کی کوشش کی جبکہ صدر مملکت آصف علی زرداری اور تمام صوبائی وزرائے اعلی کے تعاون سے ٹارگٹڈ سبسڈی کا پروگرام بھی کئی سو ارب روپے کی سطح پر آج بھی جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے نظام میں شفافیت لانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت اب اوگرا روزانہ کی بنیاد پر بین الاقوامی منڈی کے مطابق قیمتوں کا تعین کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اوگرا نہ صرف پلیٹس ریٹ اپنی ویب سائٹ پر شائع کرے گا بلکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں شامل تمام عناصر بھی عوام کے سامنے پیش کرے گا تاکہ شہری خود جان سکیں کہ قیمتوں میں ردوبدل کن عوامل کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے اور یہ فیصلے کیوں ناگزیر ہوتے ہیں۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت عوام سے کئے گئے اپنے وعدے پر قائم ہے اور بین الاقوامی منڈی میں قیمتوں میں کمی آنے پر اس کا فائدہ عوام کو منتقل کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ڈیزل کی قیمت 520روپے سے کم ہو کر تقریبا 300روپے کے دائرے میں آ چکی ہے جبکہ پٹرول کی قیمت میں بھی تقریبا 70سے 80روپے تک کمی عوام کو منتقل کی گئی۔انہوں نے واضح کیا کہ لیوی کے حوالے سے بین الاقوامی معاہدوں سے بڑھ کر عوام پر کوئی اضافی بوجھ نہیں ڈالا گیا اور 27اور 28فروری کی سطح کے مقابلے میں موجودہ لیوی بھی اس سے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایک جانب شفافیت کو فروغ دے رہی ہے جبکہ دوسری جانب ان ڈائریکٹ ٹیکسیشن کے بوجھ میں کمی کے لئے بھی اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت قیمتوں کے تعین کے نظام سے اپنا کردار محدود کرتے ہوئے ریگولیٹر کو مثر کردار دے رہی ہے تاکہ صارفین، حکومت اور آئل سیکٹر کے تمام شراکت داروں کے مفادات میں توازن برقرار رکھا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ جس شعبے میں حکومت نے اپنا کردار محدود کیاوہاں عوام کے لئے بہتری آئی ہے۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ آئندہ سات ورکنگ ڈیز کے پلیٹس ریٹ کی اوسط کی بنیاد پر روزانہ قیمتوں کا تعین کیا جائے گا تاکہ بین الاقوامی منڈی میں قیمتوں میں اضافے یا کمی کا اثر فوری طور پر عوام تک منتقل ہو سکے۔ انہوں نے اسے پٹرولیم سیکٹر کی ڈی ریگولیشن کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔علی پرویز ملک نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر ان کی سربراہی میں اعلی سطح کی کمیٹی پٹرولیم سیکٹر کی ڈی ریگولیشن، انرجی پرائسنگ اور انرجی سکیورٹی آرکیٹیکچر پر کام کر رہی ہیجس کے چار اجلاس ہو چکے ہیں جبکہ آئندہ 15 سے 20 روز میں سفارشات مکمل کر کے عوام کے سامنے پیش کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے انہیں پاکستان کے انرجی سکیورٹی آرکیٹیکچر پر کام کی ذمہ داری سونپی ہے، اس سلسلے میں سٹریٹجک پٹرولیم ریزرو کے قیام کے لئے بین الاقوامی شہرت یافتہ کنسلٹنٹس کے ذریعیمطالعاتی کام شروع کر دیا گیا ہے تاکہ اس بارے میں فیصلہ کیا جا سکے کہ آیا حکومت پانچ سال کے عرصے میں 500 ملین سے ایک ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری کر کے آئندہ نسلوں کے لئے سٹریٹجک پٹرولیم ذخائر قائم کر سکتی ہے یا نہیں۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ کمرشل بانڈڈ سکیم کے تحت سعودی آرامکو، کویت پٹرولیم، قطر انرجی، امریکی اور چینی کمپنیوں سمیت دیگر بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مشاورت مکمل کر لی گئی ہے تاکہ وہ اپنے تیل کے ذخائر پاکستان میں رکھ سکیں اور ہنگامی یا جنگی صورتحال میں حکومت کو ان ذخائر سے خریداری کا حق حاصل ہو۔ اس حوالے سے سمری آئندہ ہفتے وفاقی کابینہ میں پیش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مقامی سطح پر تیل و گیس کی دریافت بڑھانے کے لئے بھی اقدامات جاری ہیں اور ترک پٹرولیم تقریبا بیس برس بعد اکتوبر میں سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کے لئے اپنا جہاز پاکستان لائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سرکلر ڈیٹ کے مسئلے کے حل، ای اینڈ پی کمپنیوں کو ادائیگیوں، ریفائنری اپ گریڈ پالیسی، گیس سیکٹر کی ان بنڈلنگ، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی کنسولیڈیشن اور توانائی کے شعبے کے انتظامی ڈھانچے میں بہتری پر بھی کام جاری ہے۔ علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت محدود وسائل کے باوجود عوام پر بوجھ کم کرنے اور توانائی کے شعبے میں دیرپا اصلاحات کے لئے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ مستقبل میں ملک کی انرجی سکیورٹی مزید مضبوط ہو سکے۔انہوں نیکہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ایف آئی اے، آئی بی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کوہدایت جاری کر دی ہے کہ آئل سیکٹر میں ناجائز منافع خوری کی کسی بھی کوشش کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اورقانون کے مطابق فوری اقدامات یقینی بنائے جائیں جبکہ حکومت عوام کے تحفظات کے ازالے کیلئے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے کہا ہے کہ جب علاقائی کشیدگی عروج پر تھی تو پوری دنیا میں تیل کی کمی کا سامنا تھا، تاہم حکومت نے بروقت اقدامات کرتے ہوئے مختلف ممالک سے کارگو منگوا کر پاکستان کی توانائی ضروریات پوری کیں اور ملک میں تیل کے اضافی ذخائر کا بندوبست کیا، جس کے باعث تیل کی قلت پیدا نہیں ہونے دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ حکومتوں کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ بلا تعطل تیل کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔ جب دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا تھا تو وفاقی حکومت نے ترقیاتی بجٹ میں کمی کر کے عوام کو سبسڈی فراہم کی، جس کے باعث عالمی سطح پر قیمتیں بڑھنے کے باوجود پاکستان میں ان کا بوجھ عوام پر منتقل نہیں ہونے دیا گیا۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک میں تیل کی قیمتوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، اس لیے پاکستان میں بھی قیمتوں کا روزانہ جائزہ لینے سے نظام میں مزید شفافیت آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات سے حکومت بخوبی آگاہ ہے اور پٹرولیم لیوی میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا، بلکہ اسے کم رکھنے کے لیے خصوصی کوششیں کی گئیں۔انہوں نے کہا کہ ملک کو مستقبل کی ضروریات کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں اور الیکٹرک موٹر سائیکلوں کی طرف جانا ہوگا اور ای ویز کے فروغ کے لیے پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کو مل کر کام کرنا ہوگا۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ذخیرہ اندوزی اور ہورڈنگ کے خلاف سخت ترین اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں غیر معمولی منافع کما رہی ہیں۔ انہوںنے کہا کہ ان کمپنیوں کی سخت نگرانی کی جاتی ہے۔ کاروبار کرنا اور منافع کمانا ہر ایک کا حق ہے، لیکن بحران کا فائدہ اٹھا کر ذخیرہ اندوزی کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح عوام کو ہر ممکن ریلیف فراہم کرنا ہے اور وزیراعظم شہباز شریف نے ہمیشہ عوامی ریلیف کیلئے اقدامات کیے ہیں، کفایت شعاری کی پالیسی کے ذریعے بھی بڑی بچت حاصل کی گئی۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ موجودہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کا تعلق علاقائی کشیدگی سے ہے، کشیدگی بڑھنے سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں، جس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور وزیراعظم شہباز شریف کی امن و ثالثی کی کوششوں کو پوری دنیا تسلیم کرتی ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ ملکی قیادت کو ان ثالثی کوششوں میں کامیابی حاصل ہو۔



















































