اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پنجاب حکومت نے 16 سے 18 سال عمر کے نوجوانوں کے لیے موٹر سائیکل لرنر لائسنس کے اجرا کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔
اس اقدام کے تحت اہل نوجوان مخصوص دستاویزات کی فراہمی کے بعد لرنر لائسنس حاصل کر سکیں گے۔
سرکاری ہدایات کے مطابق درخواست گزاروں کے لیے بے فارم، اسمارٹ کارڈ اور والدین کی جانب سے بیانِ حلفی جمع کرانا ضروری ہوگا۔ ساتھ ہی ہیلمٹ کا استعمال اور ٹریفک قوانین کی مکمل پاسداری بھی لازمی قرار دی گئی ہے تاکہ نوجوانوں میں محفوظ ڈرائیونگ کے رجحان کو فروغ دیا جا سکے۔
تاہم اس منصوبے کے حوالے سے جاری ہونے والے سرکاری اشتہار نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اشتہار میں لائسنس فیس 500 روپے درج کی گئی، لیکن پاکستانی روپے کی علامت (₨) کے بجائے بھارتی کرنسی کی علامت (₹) استعمال ہونے پر سوشل میڈیا صارفین نے شدید تنقید کی۔
متعدد صارفین نے اس غلطی کو غفلت قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اشتہار کی تیاری اور منظوری کے مختلف مراحل کے باوجود یہ خامی کیسے نظر انداز ہو گئی۔ سوشل میڈیا پر اس معاملے پر تبصرے اور تنقیدی آراء کا سلسلہ جاری ہے۔
دوسری جانب متعلقہ حکام کی جانب سے تاحال اس معاملے پر کوئی باضابطہ وضاحت جاری نہیں کی گئی۔ حکومت نے نوجوانوں پر زور دیا ہے کہ وہ ذمہ دارانہ ڈرائیونگ کو اپنائیں، ہیلمٹ کے استعمال کو یقینی بنائیں اور ٹریفک قوانین پر مکمل عمل کریں تاکہ سڑکوں پر حادثات میں کمی لائی جا سکے۔



















































