جمعرات‬‮ ، 18 جون‬‮ 2026 

تنخواہ دار طبقے کی جانب سے ادا کیے جانیوالے انکم ٹیکس میں اضافہ

datetime 6  فروری‬‮  2026 |

کراچی(این این آئی)برین ڈرین میں اضافے کے باوجود پاکستان کے دبائو کا شکار تنخواہ دار طبقے کی جانب سے ادا کیے جانے والے

انکم ٹیکس میں مزید اضافہ ہوا اور رواں مالی سال کے پہلے 7ماہ کے دوران یہ رقم 10 فیصد بڑھ کر 315 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ایف بی آر کے عبوری اعداد و شمار کے مطابق جولائی تا جنوری کے دوران تنخواہ دار افراد نے 315 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں وصول ہونے والے 285 ارب روپے کے مقابلے میں 30 ارب روپے یا 10.5 فیصد زیادہ ہے۔اعداد و شمار کے مطابق سرکاری و نجی شعبے کے تنخواہ دار افراد کی ٹیکس ادائیگیاں اسی مدت میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے ادا کردہ ٹیکس سے دگنا سے بھی زیادہ رہیں۔یہ 315 ارب روپے کی رقم بک ایڈجسٹمنٹس کے بغیر ہے اور اس میں وہ ادائیگیاں بھی شامل نہیں جو بعض کنٹریکٹ ملازمین نے انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 153-بی کے تحت کیں۔رپورٹ کے مطابق نان کارپوریٹ سیکٹر کے ملازمین نے سب سے زیادہ 139 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 14 فیصد زیادہ ہے۔کارپوریٹ سیکٹر کے ملازمین نے 100 ارب روپے ٹیکس دیا، جس میں 16 فیصد اضافہ ہوا۔صوبائی حکومتوں کے ملازمین نے 44 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 8 فیصد کم ہے، اور یہ مسلسل دوسرا مہینہ ہے جب صوبائی ملازمین کی ٹیکس ادائیگیوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔وفاقی حکومت کے ملازمین نے 31.5 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 9 فیصد زیادہ ہے۔

رواں مالی سال میں حکومت نے ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لیے متعدد اقدامات متعارف کرائے، تاہم بیرونی دباو کے باعث بعد ازاں انھیں واپس لینا پڑا۔رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ میں ریئل اسٹیٹ سیکٹر سے مجموعی طور پر 152 ارب روپے ودہولڈنگ ٹیکس وصول کیا گیا، جو 17 فیصد زیادہ ہے۔ماہرین کے مطابق پاکستان کا تنخواہ دار طبقہ بدستور غیر متناسب ٹیکس بوجھ کا شکار ہے اور حکومت کی سست روی کی پالیسی کا خمیازہ بھگت رہا ہے،حکومت کی جانب سے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کے دعوے محض زبانی جمع خرچ تک محدود ہیں، جس کے نتیجے میں ہنرمند، انتہائی ہنرمند اور اعلی تعلیم یافتہ افراد پاکستان چھوڑ رہے ہیں۔بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق گزشتہ کیلنڈر سال میں ملک چھوڑنے والے 7 لاکھ 62 ہزار پاکستانیوں میں سے 2 لاکھ 54 ہزار 180 افراد ہنرمند، انتہائی ہنرمند یا اعلی تعلیم یافتہ تھے۔اوورسیز پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر ہی واحد وجہ ہیں جن کے باعث پاکستان ڈیفالٹ سے بچا ہوا ہے،تاہم حکومت اس بات سے اتفاق نہیں کرتی کہ تمام ہنرمند افراد پاکستان چھوڑ رہے ہیں۔



کالم



فلم میں بھی ہارنے سے انکار


یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…