بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

تنخواہ دار طبقے کی جانب سے ادا کیے جانیوالے انکم ٹیکس میں اضافہ

datetime 6  فروری‬‮  2026 |

کراچی(این این آئی)برین ڈرین میں اضافے کے باوجود پاکستان کے دبائو کا شکار تنخواہ دار طبقے کی جانب سے ادا کیے جانے والے

انکم ٹیکس میں مزید اضافہ ہوا اور رواں مالی سال کے پہلے 7ماہ کے دوران یہ رقم 10 فیصد بڑھ کر 315 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ایف بی آر کے عبوری اعداد و شمار کے مطابق جولائی تا جنوری کے دوران تنخواہ دار افراد نے 315 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں وصول ہونے والے 285 ارب روپے کے مقابلے میں 30 ارب روپے یا 10.5 فیصد زیادہ ہے۔اعداد و شمار کے مطابق سرکاری و نجی شعبے کے تنخواہ دار افراد کی ٹیکس ادائیگیاں اسی مدت میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے ادا کردہ ٹیکس سے دگنا سے بھی زیادہ رہیں۔یہ 315 ارب روپے کی رقم بک ایڈجسٹمنٹس کے بغیر ہے اور اس میں وہ ادائیگیاں بھی شامل نہیں جو بعض کنٹریکٹ ملازمین نے انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 153-بی کے تحت کیں۔رپورٹ کے مطابق نان کارپوریٹ سیکٹر کے ملازمین نے سب سے زیادہ 139 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 14 فیصد زیادہ ہے۔کارپوریٹ سیکٹر کے ملازمین نے 100 ارب روپے ٹیکس دیا، جس میں 16 فیصد اضافہ ہوا۔صوبائی حکومتوں کے ملازمین نے 44 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 8 فیصد کم ہے، اور یہ مسلسل دوسرا مہینہ ہے جب صوبائی ملازمین کی ٹیکس ادائیگیوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔وفاقی حکومت کے ملازمین نے 31.5 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 9 فیصد زیادہ ہے۔

رواں مالی سال میں حکومت نے ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لیے متعدد اقدامات متعارف کرائے، تاہم بیرونی دباو کے باعث بعد ازاں انھیں واپس لینا پڑا۔رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ میں ریئل اسٹیٹ سیکٹر سے مجموعی طور پر 152 ارب روپے ودہولڈنگ ٹیکس وصول کیا گیا، جو 17 فیصد زیادہ ہے۔ماہرین کے مطابق پاکستان کا تنخواہ دار طبقہ بدستور غیر متناسب ٹیکس بوجھ کا شکار ہے اور حکومت کی سست روی کی پالیسی کا خمیازہ بھگت رہا ہے،حکومت کی جانب سے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کے دعوے محض زبانی جمع خرچ تک محدود ہیں، جس کے نتیجے میں ہنرمند، انتہائی ہنرمند اور اعلی تعلیم یافتہ افراد پاکستان چھوڑ رہے ہیں۔بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق گزشتہ کیلنڈر سال میں ملک چھوڑنے والے 7 لاکھ 62 ہزار پاکستانیوں میں سے 2 لاکھ 54 ہزار 180 افراد ہنرمند، انتہائی ہنرمند یا اعلی تعلیم یافتہ تھے۔اوورسیز پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر ہی واحد وجہ ہیں جن کے باعث پاکستان ڈیفالٹ سے بچا ہوا ہے،تاہم حکومت اس بات سے اتفاق نہیں کرتی کہ تمام ہنرمند افراد پاکستان چھوڑ رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…