اسلام آباد (این این آئی)وفاقی حکومت نے قیمتی پتھروں کی برآمد اور ریگولرائزیشن کیلئے پلان تیار کرلیا، 2030ء تک 35کروڑ ڈالر کا برآمدی ہدف مقرر کیا گیا ہے ۔
پالیسی دستاویز کے مطابق 5سال میں 610برآمدکنندگان کو عالمی منڈیوں میں نمائش کی سہولت دی جائے گی۔ کاروبار کی رجسٹریشن،صوبائی ہم آہنگی اور سہولیات کیلئے مرکزی اتھارٹی بنانے کی تجویز ہے۔ اتھارٹی میں وفاقی اور صوبائی نمائندے شامل،ادارہ قومی جمیز سٹوںن پالیسی کا نگران ہوگا۔نیشنل ورائٹی آفس قائم اور برآمد نہ ہونے والے سامان کی واپسی یقینی بنائی جائے گی، برآمد کندگان کو لین دین آسان بنانے کیلئے ای پیمنٹ گیٹ ویز کی سہولیات دی جائے گی۔قیمتی پتھروں کی قانونی تجارت بڑھانے کیلئے 6 ورکنگ گروپس بنا دیئے گئے، بینکاری و مالی امور میں بہتری،غیرفروخت شدہ مال کے ری فنڈ سے متعلق ورکنگ گروپ شامل ہیں، گروپس کان کنی کے شعبے میں جدت اور کاروبار کی رجسٹریشن پر بھی کام کریں گے۔دستاویز کے مطابق رجسٹریشن اور ٹریسی ایبلیٹی سے 6کروڑ ڈالر سے زائد کی ویلیو ایڈیشن متوقع ہے،
تمام ادارے قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کی سہہ ماہی رپورٹ وزارت کو دیں گے۔حکام کے مطابق پاکستان میں 450ارب ڈالر سے زائد مالیت کے قیمتی پتھر موجود ہیں، پاکستان میں 200ملین قیراط یاقوت،70ملین قیراط زمرد اور دیگر قیمتی پتھر ہیں، پرانے طریقوں سے پراسیسنگ سے 70فیصد تک قیمتی پتھر ضائع ہورہے ہیں۔















































