اسلام آباد(این این آئی)سوئی ناردرن کے اپنے ہی ملازمین کا 41کروڑ روپے سے زائد کے گیس پائپ کی چوری میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔منگل کوپیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی سید نوید قمر کی زیر صدارت پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا۔ اس موقع پر سوئی ناردرن کے اپنے ہی ملازمین کا گیس پائپ کی چوری میں ملوث ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے، مانگا منڈی میں گیس پائپ کی چوری سے41کروڑ روپے سے زائد نقصان ہوا۔ آڈٹ حکام کے مطابق اسٹور سے41کروڑ روپے سے زائد کے پائپ چوری کیے گئے، ایف آئی اے نے اس چوری پر مجموعی طور پر 41انکوائریاں کی ہیں۔ آڈٹ حکام کی بریفنگ کے مطابق ٹرکوں کے حساب سے ایس این جی پی ایل اسٹور سے مال نکالا گیا ۔
رکن کمیٹی شازیہ مری نے کہا کہ یہ ادارے کی اپنی چوری ہے، یہ بہت سنجیدہ معاملہ ہے، پہلے کہتے تھے لوگ چوری کرتے ہیں، اب ادارے کے ملازم ہی چوری کر رہے ہیں۔ایس این جی پی ایل حکام نے کہا کہ سیکیورٹی کیمرے براہ راست ہیڈ آفس میں رپورٹ کرتے ہیں۔ منیجنگ ڈائریکٹر سوئی ناردرن نے کہا کہ 41کروڑ روپے میں سے 16ملین روپے کی ریکوری کرلی گئی ہے۔ایف آئی اے حکام نے کہا کہ 18ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا، سب کی ضمانت ہوگئی۔ سوئی ناردرن حکام نے کہا کہ ادارے نے 41لوگوں کو چوری کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
چیئرمین کمیٹی نوید قمر نے کہا کہ عدالت نے ان سب لوگوں کو ضمانت کیسے دے دی؟ ۔حکام نے بتایا کہ ایس این جی پی ایل کے بورڈ نے اس کیس کیلئے خصوصی کمیٹی بنائی ہے۔ایف آئی اے حکام نے کہا کہ ایف آئی اے نے4 کروڑ 40 لاکھ روپے کی ریکوری کی ہے، ایف آئی اے نے سوئی ناردرن سے فارنزک آڈٹ کی درخواست کی ہے۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ایف آئی اے سے پائپ چوری کی تحقیقات پر رپورٹ طلب کرلی ہے۔















































