جمعہ‬‮ ، 19 جون‬‮ 2026 

برطانیہ کا دوٹوک فیصلہ، ویزا پالیسی میں بڑی تبدیلی!

datetime 9  ستمبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) برطانیہ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ ممالک جو اپنے ان شہریوں کو واپس لینے میں ہچکچاہٹ یا تاخیر کا مظاہرہ کریں گے جو برطانیہ میں غیر قانونی طور پر مقیم ہیں، ان کے لیے ویزوں کی تعداد میں کمی یا دیگر سخت اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔برطانیہ کی نئی وزیرداخلہ شبانہ محمود نے عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلی بڑی ملاقات میں امریکا، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے وزرائے داخلہ سے معاہدہ کیا۔ یہ ممالک مجموعی طور پر ’فائیو آئیز‘ (Five Eyes) کہلاتے ہیں۔ معاہدے کا مقصد غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی واپسی کے عمل کو تیز اور مؤثر بنانا ہے۔اس معاہدے کے مطابق ہر ملک پر لازم ہوگا کہ وہ اپنے ان شہریوں کو واپس لے جو کسی دوسرے ملک میں غیر قانونی طور پر رہائش پذیر ہیں۔

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایسے ممالک جو اس عمل میں تعاون نہیں کرتے یا جان بوجھ کر تاخیر کرتے ہیں، ان کے خلاف ویزا پالیسی میں تبدیلی اور ویزوں کی تعداد میں کمی جیسے اقدامات کیے جا سکتے ہیں تاکہ امیگریشن کے خطرات کو متوازن بنایا جا سکے۔یہ پالیسی فوری طور پر نافذ کر دی گئی ہے۔ وزیرداخلہ شبانہ محمود نے کہا کہ امیگریشن کے غلط استعمال سے قومی سلامتی کو خطرات لاحق ہوتے ہیں، اور برطانیہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ان خطرات سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ بغیر قانونی اجازت کے برطانیہ میں مقیم ہیں انہیں ملک بدر کیا جائے گا، اور اگر کوئی ملک اپنے شہریوں کو واپس لینے سے انکار کرتا ہے تو اس کے خلاف بھی اقدامات کیے جائیں گے۔’فائیو آئیز‘ ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنے وسائل کو یکجا کرکے غیر قانونی ہجرت کے نیٹ ورکس، خاص طور پر آن لائن پلیٹ فارمز پر سرگرم انسانی اسمگلروں کے خلاف مؤثر کارروائی کریں گے۔

تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ چھوٹی کشتیوں کے ذریعے آنے والے تقریباً 80 فیصد مہاجرین نے اپنی ہجرت کے دوران سوشل میڈیا کا سہارا لیا۔برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (NCA) کے مطابق دسمبر 2021 سے اب تک 23 ہزار سے زائد آن لائن مواد، پیجز اور اکاؤنٹس کو ہٹایا گیا جو غیر قانونی ہجرت کو فروغ دے رہے تھے۔ صرف گزشتہ سال ہی 8 ہزار سے زیادہ اکاؤنٹس حذف کیے گئے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 40 فیصد زیادہ ہیں۔حکومت کے مطابق گزشتہ سال کے دوران 35 ہزار سے زائد ایسے افراد کو ملک بدر کیا گیا جن کے پاس برطانیہ میں قیام کی کوئی قانونی حیثیت نہیں تھی۔ مزید یہ کہ ’پہلے ملک بدر، بعد میں اپیل‘ کی پالیسی کو 23 ممالک تک بڑھا دیا گیا ہے اور نئے واپسی معاہدے فرانس اور عراق جیسے ممالک کے ساتھ کیے گئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



فلم میں بھی ہارنے سے انکار


یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…