بدھ‬‮ ، 19 اگست‬‮ 2026 

کمرشل بینکوں کی سروسز کے نام پر صارفین سے اربوں روپے کی لوٹ مار

datetime 30  ستمبر‬‮  2024 |

کراچی (این این آئی)پاکستان کے کمرشل بینکنگ سیکٹر کی جانب سے سروسز کے نام پر کھاتہ داروں سے سالانہ اربوں روپے وصول کرنے پر وفاقی وزرات خزانہ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے چپ سادھ لی ۔کچھ بینک کھاتہ داروں کو اے ٹی ایم کے لئے مجبور کرتے ہیں جس کی فیس وہ 2000سے 20000 تک وصول کررہے ہیں ۔صارفین نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سروسز کے نام پر کی جانے والی اس لوٹ مار کا نوٹس لیا جائے ۔

تفصیلات کے مطابق کمرشل بینکنگ سیکٹر کی جانب سے صارفین کو اے ٹی ایم کارڈز ،کریڈیٹ کارڈ ،چیک بکس ،آن لائن ٹرانزیکشن کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں تاہم ان سروسز کے نام پر کھاتہ داروں سے سالانہ اربوں روپے وصول کیے جارہے ہیں ۔صارفین کا کہنا ہے کہ بینکوں کی جانب سے انہیں کیٹگریز کے نام پر لوٹا جارہا ہے ۔سلور ،گولڈ ،پلاٹنیم سمیت مختلف کیٹگریز متعارف کرائی گئی ہیں جن کی سالانہ فیس ہزاروں روپے وصول کی جاتی ہے ۔صارفین کے مطابق کچھ بینک کھاتہ داروں کو اے ٹی ایم کے لئے مجبور کرتے ہیں جس کی فیس وہ 2000سے 8000 تک وصول کرتے ہیں۔

جس میں وہ لمٹ کے نام پر کھاتا داروں کو لوٹتے ہیں۔صارفین کا کہنا ہے کہ بینکنگ سیکٹر کو یہ کھلی چھوٹ اسٹیٹ بینک کی جانب سے فراہم کی گئی ہے جو کھاتہ داروں کا تحفظ کرنے میں ناکام نظرآتا ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کمرشل بینکنگ سیکٹر میں کچھ بڑے کاروباری خاندانوں کی اجارہ داری ہے جو ملک سے غربت کے خاتمہ کے لیے متوسط طبقہ کو آسان شرائط پر قرضہ دینے کی بجائے صرف اپنے پروجیکٹس کے لیے قرض فراہم کرتے ہیں ۔

اسٹیٹ بینک کی جانب سے اس حوالے سے کوئی مانیٹرنگ نہیں کی جاتی ہے ۔اسٹیٹ بینک کو دیکھنا چاہیے کہ کمرشل بینک صارفین کے ساتھ کیا سلوک کررہے ہیں ۔صارفین کا کہنا ہے کہ بینکس کریڈٹ کارڈ کا ڈیو اکائونٹس کا 3 فیصد ٹیکس لیتے ہیں جو کہ بینک کے انٹرسٹ ریٹ کا ڈبل سے بھی زیادہ ہے ا ور پھر یہ لیٹ فیس، فنانشل چارج اور کارڈ ایکسپائری پر رینوول فیس 20ہزار روپے تک چارج کی جاتی ہے ۔صارفین کا کہنا ہے کہ لوگ پیسوں کے تحفظ کے لئے بینک کا رخ کرتے ہیں اور کھاتہ داروں کی اس مجبوری کا فائدہ کمرشل بینک اٹھا رہے ہیں ۔انہوںنے وفاقی وزرات خزانہ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے مطالبہ کیا کہ کمرشل بینکوں کی جانب سے سروسز کے نام پر کی جانے والی اس لوٹ مار کا فوری نوٹس لیا جائے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…